اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد نے منگل کے روز اسلام آباد ڈرائی پورٹ میں اسمگل شدہ اور ضبط شدہ ممنوعہ اشیاء کو تلف کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا۔تقریب کے دوران تقریباً 80 کروڑ روپے مالیت کا ضبط شدہ اسمگل شدہ سامان تلف کیا گیا، جس میں شراب، موبائل فون، سگریٹ، مختلف غذائی اشیاء اور دیگر ممنوعہ سامان شامل تھا۔ یہ کارروائی تمام قانونی تقاضے اور متعلقہ قوانین کے تحت ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی۔
تقریب میں کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد کے افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی، جبکہ چیف کلیکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) باسط مقصود عباسی مہمانِ خصوصی تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف کلیکٹر باسط مقصود عباسی نے کہا کہ پاکستان کسٹمز اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور ملک بھر میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ سے نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچتا ہے بلکہ قانونی کاروبار، مقامی صنعت اور ملکی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسٹمز سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے، انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو وسعت دینے اور کسٹمز قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کلکٹریٹ کی کامیاب انسدادِ اسمگلنگ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے افسران اور اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ دیانت داری، ایمانداری اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کلکٹر، کلکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد رضوان سلبت نے کہا کہ کلکٹریٹ اپنے دائرہ اختیار میں اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مؤثر رابطوں اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنا کر اسمگلنگ کے خلاف اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد کسٹمز ہر قسم کی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھے گا اور غیر قانونی تجارت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔تقریب کے اختتام پر ضبط شدہ اسمگل شدہ سامان تلف کر دیا گیا، جس کے ذریعے پاکستان کسٹمز نے اسمگلنگ کے خلاف اپنے مؤثر عزم اور قومی معیشت کے تحفظ کے عزم کا ایک بار پھر اظہار کیا۔











