بیگمات ہوشیار باش
سمجھوتہ غموں سے کر لو/ زندگی میں غم ہی ملتے ہیں

 تحریر: سید شہریار احمد

 ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

بیگمات ہوشیار باش

انسانیت کی لاعلاج بیماریوں میں سے یکسانیت سے اکتا جانا بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ شادی شدہ جوڑے اپنے شریک حیات سے وہ جسمانی، روحانی اور نفسیاتی خوشی حاصل نہیں کر پاتے جو انہیں پہلے چند ماہ میں نصیب ہوتی ہے۔

قدرت کی اسی ستم ظریفی کے باعث، ازواج ایک دوسرے سے کھچاؤ ، اکتاہٹ اور مایوسی کا شکار رہتے ہیں ۔

اسی لئے دنیا بھر میں اور بالخصوص پاکستان میں طلاقوں اور خلع کی ایوریج بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے،

میاں بیوی کی ایک دوسرے سے ذہنی دوری بالاخر جسمانی دوری کا سبب بنتی ہے اور پھر فریقین ذہنی ،نفسیاتی اور جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے اس اخلاقی دائرے سے باہر نکل کر تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

خیر اب تو شادیوں کا رواج دنیا میں کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ پڑھے لکھے، ترقی یافتہ سماجوں میں بھی اب شادیاں ویسے کامیاب نہیں ہو رہیں جس طرح لگ بھگ ایک دہائی پہلے ہوا کرتی تھی

اور اب تو ایک نیا رواج چل پڑا ہے لیونگ ریلیشن شپ کا اور ویسے بھی اتنی مہنگائی کے دور میں لوگوں کو بچوں کی ذمہ داری لینا مشکل لگنے لگا ہے ۔

میں تو شادی کے بہت خلاف ہیں اور شادی ویسے بھی ایک سماجی رسم ہے، یہ کوئی مذہبی رسم تو ہے نہیں اور کئی معاشروں میں تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ یہ غیر حقیقی ،غیر فطری عمل ہے کہ دو مرد اور عورت جو کئی سالوں تک علیحدہ ماحول میں ،علیحدہ خاندانوں میں، علیحدہ تعلیم و تربیت اور علیحدہ خواہشیں لے کر پلے بڑھے اور جوان ہوئے ہوں وہ متضاد قسم کی شخصیات آپس میں سالوں تک اکٹھے کیسے رہ سکتے ہیں ؟

میں بات کچھ اور کرنا چاہتا تھا بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔

یہ بقیہ آدھا آرٹیکل خواتین کے لیے ہے ۔

ہاں میں تو یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ تمام بیگمات ہوشیار رہیں کیونکہ جو خاوند گھر میں باوضو نظر آتے ہیں وہ گھر سے باہر کاروائی ڈال کر نہا دھو کے گھر آتے ہیں۔

مرد اور عورت کی اسی ریلیشن شپ کے حوالے سے مجھے میرے چند دوستوں کے بارے میں کچھ معلومات ہیں جو میں آپ سے شیئر کرتا ہوں۔

میرے ایک دوست ہیں، میں جانتا ہوں کہ وہ بلا کے عیاش ہیں، کوئی لڑکی ان سے بات کر لے تو متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتی۔

اس کے باوجود ان کی، ان کی بیگم سے بہت اچھی سلام دعا ہے جس کی وجہ ان کا طریقہ واردات ہے کہ ان کے پاس دو فون اور دو سمز ہیں۔

رات کو جب گھر آتے ہیں تو ایک فون جو سارا سارا دن لڑکیوں کے ساتھ گپ شپ میں استعمال ہوتا ہے وہ رات گھر واپسی پر گاڑی کی ڈگی میں آف کر کے چھپا دیا جاتا ہے

اور صبح کام پر جا کر دوبارہ نکال لیتے ہیں۔ اس طرح اس واردات کو پانچ سال ہو چکے ہیں اور ان کی بیوی کو کوئی شک نہیں۔

میرے ایک دوسرے شاعر اور ادیب دوست جو میرے ساتھ پروگرام کر رہے تھے پروگرام کے وقفے میں انہوں نے کسی کو کال کی اور بات کرتے ہوئے تین چار مرتبہ میری جان ،میری جان کہ کے مخاطب کرتے رہے۔

پروگرام کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنی محبوبہ سے بات کر رہے تھے؟ تو کہنے لگے نہیں اپنی بیوی سے بات کر رہا تھا۔ میں نے کہا آپ کے اپنی بیگم سے بہت اچھی تعلقات ہیں؟

کہنے لگے ہاں یہی فارمولا ہے شہریار ،اگر آپ نے اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ خوش رہنا ہے تو بیگم کو بھی خوش کرنا پڑے گا کیونکہ اگر آپ بیگم سے لڑکے نکلیں گے تو آپ اپنی فرینڈز کے ساتھ بھی انجوائے نہیں کر سکتے۔تو اس کے لیے میں یہ کرتا ہوں کہ مہینے میں ایک جوڑا اپنی بیوی کو لے کر دیتا ہوں تو دو جوڑے اپنی گرل فرینڈ کو،

ایک بار کھانا بیوی کو باہر کھلاتا ہوں تو دو بار اپنی گرل فرینڈز کو کسی اچھے ہوٹل میں لے جا کر کھلانا پڑتا ہے۔

یہ صاحب بھی اپنی بیگم کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

میرے ایک دوست میرے ذہن میں آ رہے ہیں۔ میں ایک شام ان کو گھر ملنے گیا تو ان کے سر پہ ٹوپی رکھی ہوئی تھی اور ہاتھ پہ تسبیح تھی ۔میں نے کہا جناب یہ کیا تو کہنے لگے شہریار بھائی میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟

کہنے لگے، نو گھنٹے میں آفس میں رہتا ہوں۔ سارا دن وہاں فی میلز کے ساتھ رابطہ رہتا ہے۔ میری جاننے والیاں وہاں آتی ہیں۔

پھر اگر ضرورت پڑے تو میں انہیں فلیٹ میں لے جاتا ہوں۔

کیا نو گھنٹے کم ہیں عیاشی کرنے کے لیے جو میں گھر پہ بھی فون رکھوں ؟

انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا وہ فون جو صنف مخالف سے گپ شپ لگاتا ہے،

اچھی گندی باتیں کرتا ہے، گندی گندی ویڈیو شیئرز کرنے میں استعمال ہوتا ہے وہ پانچ بجے خوف سے دراز میں لاک ہو جاتا ہے اور میں گھر آ کر سر پہ ٹوپی رکھ کے ہاتھ میں تسبیح لے کر نماز پڑھ کے وقت گزارتا ہوں اور ہماری شادی بہت اچھی چل رہی ہے۔

اور ادھر ایک ہم ہیں کچھ بھی نہ کریں تو پھنس جاتے ہیں،

ذرا سی کسی سے چیٹ کر لیں تو وہ گھر والے پکڑ لیتے ہیں۔

کتنے خوش نصیب ہیں یہ لوگ جو دو فون اور دو سمیں رکھتے ہیں اور اگر آپ کے پاس ایک سم ہے ایک فون ہے تو آپ میرے جیسے ہی پکڑن پکڑائی اور چور سپاہی والی زندگی گزاریں۔

تو رہیں وہ بیگمات جن کے شوہر ان کے ساتھ ہنس کے بات کرتے ہیں،

انہیں کھانے پہ لے جاتے ہیں

یا انہیں جوڑا دیتے ہیں وہ ہرگز ان سے مطمئن نہ ہوں

کیونکہ

ہنستا مرد اور روتی عورت

دونوں ہی آپ کی کھال اتار سکتے ہیں بلکہ اتار لیتے ہیں۔

مردوں میں اس چالاکی اور ہوشیاری کی شرح بہت کم ہوگی لیکن 100 فیصد خواتین کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے

کہ365 چرتر نار دے

تے سارا سال بندے نو مار دے۔

شاعر کہتا ہے 365 دن جو سال کے ہیں، ہر روز نار جو کہ عورت ہے، اس کی چالاکیاں دیکھتے ہیں۔ یعنی عورت ہر روز، 365 دن ایک نئی بہانہ کرتی ہے ایک نیا کھیل کھیلتی ہے

اور یہی سارا سال مردوں کو مارتی ہے۔

365 چرتر نار دے

تے سارا سال بندے نوں مار دے

مزید خبریں