جمعرات,  11 جون 2026ء
18 ہزار ارب روپے بجٹ کا امکان، کیا سپر ٹیکس میں کمی ہوگی؟

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز): آیندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم 18 ہزارارب روپے کے لگ بھگ ہو سکتا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا، تنخواہوں میں 10 فی صد اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس ریلیف مل سکتا ہے اور سالانہ 12 سے 22 لاکھ تنخواہ دار پر ٹیکس میں کمی کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق آیندہ بجٹ میں سپر ٹیکس میں بھی کمی ہو سکتی ہے، تاہم کارپوریٹ انکم ٹیکس کم نہیں ہوگا، بجٹ میں میک اپ کا سامان، سرخی پاؤڈر، مسکارے، شیمپو اور صابن سستے ہونے کا امکان ہے، جب کہ الیکٹریکل وہیکل، ہائبرڈ، پلگ ان ہائبرڈ گاڑی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ آیندہ مالی سال ٹیکس کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے ہو سکتا ہے، نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 2768 ارب روپے لگایا جا سکتا ہے، ڈائریکٹ ٹیکسز سے 7413 ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1043 ارب روپے جمع ہونے کا ہدف رکھا جا سکتا ہے، اور سیلز ٹیکس کی مد میں 4727 ارب روپے جمع ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آیندہ مالی سال کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1651 ارب روپے جمع ہونے، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف، جب کہ پٹرولیم ڈویلمپنٹ لیوی کا ہدف 259 ارب روپے زیادہ رکھا جا سکتا ہے، رواں مالی سال پٹرولیم لیوی کا ہدف 1468 ارب تھا جب کہ آیندہ مالی سال لیوی کا ہدف 1727 ارب روپے ہو سکتا ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 50 فیصد اضافہ ، بڑی خبر آگئی

آیندہ مالی سال نان ٹیکس آمدنی کا ہدف 2768 ارب روپے، اور گیس سرچارج کی مد میں 151 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر ہو سکتا ہے۔ وفاق کے لیے سود اور قرضوں پر ادائیگیوں کا تخمینہ 7824 ارب روپے ہو سکتا ہے، اور مقامی قرضوں کی ادائیگی پر 6652 ارب روپے خرچ ہونے، غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر 1107 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے جائے کا امکان ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبز میں رد و بدل کی تجویز ہے، وفاقی وزارتوں اور محکموں کے لیے 1070 ارب روپے کا غیر ترقیاتی بجٹ مقرر ہو سکتا ہے، پنشن کے لیے 1100 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقیین کو سہ ماہی وظیفہ 13000 سے بڑھا کر 14500 روپے دیے جانے کی تجویز ہے، آیندہ بجٹ میں لگژری گاڑیوں پر 10 سے 20 فی صد انوائرمنٹ لیوی عائد کیے جانے کی تجویز ہے، 2001 سے 3000 سی سی کی پٹرول اور ڈیزل انجن لگژری گاڑیوں پر 10 فی صد انوائرنمنٹ لیوی عائد ہو سکتی ہے، 3000 سے زائد سی سی کی پٹرول اور ڈیزل انجن گاڑیوں پر 19.5 فی صد انوائرنمنٹ لیوی عائد ہو سکتی ہے۔

دستاویز کے مطابق بجٹ میں 2000 سی سی سے زائد پٹرول اور ڈیزل انجن گاڑیوں پر انوائرنمنٹ لیوی سے 25.8 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے، گاڑیوں کی مقامی صنعت کو خام مال پر رعایت دینے کی تجویز ہے، گاڑیوں کی مقامی صنعت کے خام مال پر ٹیکس صرف 1 فیصد ہوسکتا ہے، مقامی گاڑیوں کے پرزہ جات بنانے کے لیے درآمدی ڈیوٹی 10 سے کم کر کے 5 فی صد کیے جانے کا امکان ہے، مقامی گاڑیوں کی صنعت کے لیے پرزہ جات درآمد کرنے پر ٹیکس 20 سے کم کر کے 10 فی صد ہو سکتی ہے، جب کہ گاڑیوں کی مقامی صنعت کو سیفٹی اور اسٹینڈرز کے 62 ٹیسٹ پاس کرنا ہوں گے۔

دستاویز کے مطابق آیندہ بجٹ میں درآمدی جیپوں پر ٹیکس کی شرح 50 فی صد سے 2 فی صد کم کیے جانے کا امکان ہے، آیندہ 5 سال میں درآمدی جیپوں پر ٹیکس کی شرح 50 سے کم کر کے 40 فی صد پر لائے جانے کا امکان ہے، مقامی طور پر تیار ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 سے بڑھا کر 18 فی صد کیے جانے کی تجویز ہے، اگر مقامی آٹو انڈسٹری نے پرزہ جات مقامی طور پر نہیں بنائے تو ان سے رعایتی ٹیکس کی سہولت ختم کردی جائے گی۔

آئندہ مالی سال بجٹ میں ماہانہ 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس میں ریلیف کا امکان ہے، سالانہ 36 لاکھ روپے کی تنخواہ پر ریلیف دینے کے لیے ورکنگ تیار کی گئی ہے، ماہانہ 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی ابتدائی تجویز تیار ہو چکی۔ سالانہ 1 کروڑ روپے یا اس سے زائد تنخواہ پر 10 فی صد سرچارج ختم ہو سکتا ہے، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سیلز 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کی تیاری کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آیندہ مالی سال پٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ لیوی دگنی کر دی جائے گی، پیٹرولیم مصنوعات پر کلائمیٹ لیوی 2.5 سے بڑھا کر 5 روپے لٹر کردی جائے گی۔

مزید خبریں