لندن(روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں برطانوی پولیس مانچسٹر میں عرب یا مسلم پس منظر رکھنے والے افراد کو چاقو رکھنے کے الزام میں گرفتار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ گرفتاریاں برطانیہ میں حالیہ چاقو زنی کے واقعات اور سکیورٹی خدشات کے بعد کی جا رہی ہیں۔ ویڈیو میں پولیس اہلکار متعدد افراد کی تلاشی لیتے اور ان کے قبضے سے مبینہ طور پر چاقو برآمد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
برطانیہ میں حالیہ مہینوں کے دوران چاقو کے استعمال سے متعلق جرائم اور پرتشدد واقعات پر شدید عوامی بحث جاری ہے۔ خاص طور پر نوجوان ہنری نوواک کے قتل کے بعد چاقو رکھنے اور مذہبی یا ثقافتی استثنیٰ سے متعلق قوانین پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں نگرانی اور کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔
تاہم وائرل ویڈیو کے حوالے سے تاحال برطانوی حکام کی جانب سے کوئی ایسا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ گرفتاریاں صرف مسلمانوں یا عرب نژاد افراد کے خلاف کی جا رہی ہیں۔ برطانوی پولیس کا مؤقف ہے کہ چاقو سے متعلق قوانین کا اطلاق بلاامتیاز تمام شہریوں پر ہوتا ہے اور کارروائیاں قانون نافذ کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
مانچسٹر ائیرپورٹ واقعہ: پولیس افسر پر حملے کے کیس میں جیوری تذبذب کا شکار کیوں؟
ماہرین نے سوشل میڈیا صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وائرل ویڈیوز کو کسی مخصوص مذہبی یا نسلی تناظر میں پیش کرنے سے قبل مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کر لیں، کیونکہ بعض اوقات پرانی یا سیاق و سباق سے ہٹ کر ویڈیوز بھی غلط دعوؤں کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں۔











