اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) گردے کی بیماری کی علامات مرض کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں، ابتدائی مراحل میں اکثر کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی لیکن بعد میں درج کچھ تبدیلیاں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔
گردے انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہیں جو خون کو صاف کرکے فاضل مادوں اور اضافی پانی کو پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق اگر گردے درست انداز میں کام کرتے رہیں تو کئی دائمی بیماریوں کے خطرات کم ہو جاتے ہیں، تاہم آج کل گردوں کے امراض میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات کو بروقت پہچان لیا جائے تو اس کے سنگین نتائج سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایسی چند اہم علامات سے آگاہ کیا ہے جنہیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
پیشاب میں تبدیلی
ماہرین کے مطابق گردوں کے متاثر ہونے کی پہلی علامات اکثر پیشاب میں تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ بار بار پیشاب آنا، خصوصاً رات کے وقت زیادہ پیشاب آنا، جھاگ دار پیشاب، پیشاب میں خون آنا یا پیشاب کرنے میں دشواری گردوں کی خرابی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
کراچی میں قائداعظم کی اے آئی فوٹو والا جعلی نوٹ چل گیا
سوجن
اسی طرح جسم کے مختلف حصوں میں سوجن بھی گردوں کی کمزور کارکردگی کی علامت ہو سکتی ہے۔ جب گردے اضافی سیال کو جسم سے خارج نہیں کر پاتے تو پیروں، ٹخنوں، ہاتھوں، چہرے اور آنکھوں کے گرد سوجن پیدا ہوجاتی ہے۔
تھکاوٹ اور کمزوری
ماہرین نے مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری کو بھی گردے کے مسائل سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے سے خون میں فاضل مادے جمع ہونے لگتے ہیں جبکہ آکسیجن کی کمی خون کی کمی کا باعث بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔
خارش، خشکی
جلد کی خارش، خشکی اور دانے بھی گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات میں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب جسم سے زہریلے مادے خارج نہیں ہو پاتے تو وہ خون میں شامل ہو کر جلدی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
الٹی اور کم بھوک
اسی طرح متلی، الٹی، بھوک میں کمی، پیٹ بھرا بھرا محسوس ہونا اور سانس کی بدبو بھی گردوں کی خرابی کی علامات ہو سکتی ہیں کیونکہ خون میں جمع ہونے والی نجاست نظامِ ہاضمہ کو متاثر کرتی ہے۔
پٹھوں میں درد
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹانگوں یا دیگر پٹھوں میں بار بار درد اور کھچاؤ بھی گردوں کے امراض کی ایک اہم علامت ہے۔ اس کی وجہ جسم میں پوٹاشیم، کیلشیم اور دیگر ضروری معدنیات کا عدم توازن بن سکتا ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ تمام علامات صرف گردے کی بیماری کی حتمی نشانی نہیں ہوتیں، تاہم ان کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ایسی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر
ماہرین صحت کے مطابق ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر گردوں کی دائمی بیماری اور گردے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر گردوں کی خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ شوگر کی زیادتی گردوں کے چھوٹے فلٹرز کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں گردے بتدریج اپنی کارکردگی کھونے لگتے ہیں۔
ڈاکٹروں نے خصوصاً شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گردوں کے باقاعدہ ٹیسٹ کرواتے رہیں تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔











