مانچسٹر ائیرپورٹ واقعہ: پولیس افسر پر حملے کے کیس میں جیوری تذبذب کا شکار کیوں؟

لندن(روشن پاکستان نیوز) مانچسٹر ائیرپورٹ پر پولیس افسر پر مبینہ حملے کے مقدمے میں جیوری کسی حتمی فیصلے تک نہ پہنچ سکی، جس کے بعد عدالت نے جیوری کو برخاست کر دیا۔ مقدمے میں دو بھائیوں، 21 سالہ محمد فہیر اماز اور 26 سالہ محمد امعاد پر گریٹر مانچسٹر پولیس کے افسر پی سی زیکری مارزڈن پر حملے کا الزام تھا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق واقعہ 23 جولائی 2024 کو مانچسٹر ائیرپورٹ کے ٹرمینل ٹو کے پارکنگ پے اسٹیشن ایریا میں پیش آیا، جہاں پولیس نے ایک کافی شاپ میں پیش آنے والے واقعے کے بعد دونوں بھائیوں سے پوچھ گچھ کی کوشش کی تھی۔ استغاثہ کے مطابق اسی دوران پولیس افسر پر حملہ کیا گیا۔

کیس کے دوران عدالت میں پیش کیے گئے شواہد اور ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکار کشیدہ صورتحال کے باوجود نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی متعدد افراد نے پولیس کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ائیرپورٹ جیسے حساس مقامات پر پولیس اہلکاروں کو اکثر مشکل اور خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

برطانیہ میں کم عمر مجرموں کو قید سے استثنیٰ، فیصلے پر شدید عوامی اور سیاسی ردعمل

کئی صارفین نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “پولیس نے پیشہ ورانہ انداز اپنایا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے واقعات میں مکمل تعاون ملنا چاہیے۔” بعض شہریوں نے کہا کہ اگر عوامی مقامات پر پولیس کی رِٹ کو چیلنج کیا جائے تو اس سے سیکیورٹی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔

گریٹر مانچسٹر پولیس کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار روزانہ عوام کے تحفظ کیلئے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں اور انہیں تشدد یا مزاحمت کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق جیوری کے فیصلے تک نہ پہنچنے کے بعد کیس میں دوبارہ سماعت یا دیگر قانونی آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں حالیہ برسوں کے دوران پولیس پر حملوں کے واقعات میں اضافے پر بھی تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ عوامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحفظ اور اختیارات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

مزید خبریں