برطانیہ میں کم عمر مجرموں کو قید سے استثنیٰ، فیصلے پر شدید عوامی اور سیاسی ردعمل

لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں دو لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں تین نوعمر لڑکوں کو جیل کی سزا نہ دینے کے عدالتی فیصلے پر شدید عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم نے کیس کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے پر فوری نظرثانی کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے مجرم قرار دیے گئے تینوں لڑکوں کو قید کی سزا دینے کے بجائے نوجوانوں کی بحالی (Youth Rehabilitation Orders) دیے تھے، جس پر متاثرہ فریق نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایک متاثرہ لڑکی نے عدالت کے فیصلے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جج کے الفاظ “ایسے تھے جیسے چہرے پر پتھر مار دیا گیا ہو”۔

برطانیہ: 2024ء سے ابتک 70 ہزار سے زائد افراد کو ملک بدر کر دیا گیا

برطانوی قانون حکام نے بھی فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ سزاؤں کے طریقۂ کار اور رہنمائی پر فوری جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس نوعیت کے سنگین جرائم میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

ذرائع کے مطابق کیس نے ملک میں کم عمر مجرموں کے لیے سزا اور بحالی کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی رہنما بھی عدالتی فیصلے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتیں کم عمر مجرموں کے لیے اصلاحی نظام کو ترجیح دیتی ہیں، تاہم ایسے سنگین جرائم میں عوامی توقعات اور انصاف کے تقاضوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

مزید خبریں