اتوار,  17 مئی 2026ء
آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی پر پابندی، انتخابی نشان واپس لینے پر شدید احتجاج

مظفرآباد(روشن پاکستنا نیوز) آزاد کشمیر میں سیاسی صورتحال اُس وقت کشیدہ ہوگئی جب تحریکِ انصاف آزاد کشمیر پر پابندی اور انتخابی نشان واپس لیے جانے کے فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے فیصلے کو جمہوری حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج آزاد کشمیر کے عوام کے ووٹ اور رائے کی آزادی پر “ڈاکہ” ڈالا گیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے جمہوریت، انصاف اور عوامی مینڈیٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔

تحریکِ انصاف آزاد کشمیر کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر سیاسی انتقام کی روایت کو دہراتے ہوئے پارٹی پر پابندی عائد کی اور انتخابی نشان چھین لیا، جسے کشمیری عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

بلوچستان کی ترقی اور نوجوانوں کے مسائل پر وفاقی وزیر سید عمران شاہ اور سردار حمزہ عباسی کی اہم ملاقات

پارٹی قیادت کے مطابق یہ فیصلہ کشمیری عوام کے بنیادی جمہوری حق پر قدغن کے مترادف ہے اور اس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ رہنماؤں نے اس فیصلے کا موازنہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں بھی عوام کے ووٹ کے حق کو سلب کیا جا رہا ہے۔

تحریکِ انصاف آزاد کشمیر نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کارکنان ہر سطح پر مزاحمت کریں گے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں نکلیں گے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال اس ردعمل پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں