جمعرات,  23 اپریل 2026ء
پاور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں رائٹ آف وے کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ورکشاپ کا انعقاد

لاہور(روشن پاکستان نیوز)چیئرمین نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی)بورڈ ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نےکہا ہے کہ زمین کے حصول میں تاخیر نہ صرف لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ گرڈ کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے اور عوام تک سستی بجلی کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بنتی ہے،صدیوں پرانے قانونی ڈھانچے میں اصلاح ناگزیر ہے،ہمیں ردِعمل پر مبنی انداز سے نکل کر پیشگی اقدامات کی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، چیلنجز کا ادراک پہلے سے کرنا ہوگا، اپنے نظام کو جدید بنانا ہوگا اور ایسے فریم ورک تشکیل دینا ہوں گے جو آج کی ترقیاتی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں، انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی)کے زیراہتما پاور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں رائٹ آف وے (ROW) سے متعلق مسائل پر لمز میں اپنی نوعیت کی پہلی ورکشاپ کے انعقادکے موقع پر کیا، ورکشاپ میںقانونی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور پاور سیکٹر سے وابستہ اہم سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ، ورکشاپ کا مقصدمنصوبوں کیلئے زمین کے حصول سے متعلق چیلنجز کے حل کے لیے نئے قانونی اور آپریشنل فریم ورک کی تشکیل کی راہ ہموارکرنا تھا جو پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام کی بروقت اور قابلِ اعتماد فراہمی کو متاثر کرتے ہیں، یہ ورکشاپ ان چیلنجز کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جہاں ماہرین کو یکجا کر کے اس مسئلے کا مؤثر اور منصفانہ حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ورکشاپ کا آغاز این جی سی کی چیف لا آفیسر مس ماریہ رفیق نے کیا اور اپنے ابتدائی کلمات میں ورکشاپ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے اسے پاکستان کی بڑھتی ہوئی ٹرانسمیشن ضروریات کے مطابق مؤثر گورننس ماڈل کی تشکیل کے لیے ایک مسلسل اور منظم کوشش کا آغاز قرار دیا۔مہمانِ خصوصی، چیئرمین سی پی پی اےجی بورڈ عرفان علی نے اس بات پر زور دیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں کیونکہ زمین مالکان کے ساتھ منصفانہ اور مساوی سلوک نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ ایک عملی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ طرزِ عمل شکایات کو کم کرتا ہے، قانونی تنازعات میں کمی لاتا ہے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بناتا ہے،این جی سی کے قانونی مشیر ڈاکٹر داؤد منیر نے موجودہ قانونی فریم ورک پر تفصیلی پریزنٹیشن دی جس میں انہوں نے موجودہ نظام اور عملی ضروریات کے درمیان موجود خلا کو اجاگر کیا اور بڑے پیمانے پر ٹرانسمیشن منصوبوں کے لیے ایک جدید رائٹ آف وے فریم ورک کے اہم عناصر پیش کیے،بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا جدید نظام جو عوامی مفاد اور شہری حقوق میں توازن قائم کرے، نہ صرف زیادہ منصفانہ اور عوام دوست ہوتا ہے بلکہ حکومتی ترقیاتی اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ورکشاپ میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں، ای پی سی کنٹریکٹرز، ڈپٹی کمشنر آفس لاہور، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، عالمی بینک اور سی پی پی اے-جی کے نمائندگان نے شرکت کرکے اپنی فیلڈ کے تجربات شیئر کیے اور عملی رکاوٹوں، قانونی خطرات اور طریقہ کار میں بہتری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تاکہ منصوبوں کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی انجینئر الطاف حسین ملک نے اختتامی کلمات میں قانون سازی اور داخلی اصلاحات کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ زمین کے حصول سے متعلق قوانین فرسودہ ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ نئے قوانین لانا ضروری ہے، تاہم کسی بھی نئے فریم ورک کے تحت مؤثر انداز میں کام کرنے کیلئے صرف قانونی اصلاحات کافی نہیں، ہمیں اپنے داخلی نظام، منصوبہ بندی اور مقامی کمیونٹیز و زمین مالکان کے ساتھ روابط کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔

مزید خبریں