نائن الیون کے بعد امریکا نے دنیا میں 3 جنگیں لڑیں اور 10 ممالک پر بمباری کی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) نائن الیون کے بعد امریکا نے دنیا میں 3 جنگیں لڑیں ، 10 ممالک  پر بمباری کی  اور  9 لاکھ 40 ہزار  انسانوں کی جانیں لیں۔

غیرملکی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد صدر بش، اوباما، بائیڈن اور ٹرمپ ادوار میں امریکا نے 10 ممالک افغانستان، عراق، یمن، پاکستان، صومالیہ، لیبیا، شام، وینزویلا، نائجیریا اور ایران پر فضائی اور زمینی حملےکیے۔

سب سے پہلی جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ اکتوبر 2001 میں شروع ہونے والی یہ جنگ 20 سال جاری رہی، اس جنگ میں 2 لاکھ 43 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ امریکا نے دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان تنازعات پراندازاً 5.8 ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔ معذور اور ریٹائرڈ فوجیوں پر اخراجات ملا کر یہ لاگت 8 ٹریلین ڈالر تک جا سکتی ہے۔

اتحاد امت فورم کا امریکہ و اسرائیل کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان

مارچ 2003 کو صدر بش نے عراق میں دوسری جنگ شروع کی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، یہ دعویٰ تو بعد میں غلط ثابت ہوا مگر عراق میں 3 لاکھ 15 ہزار لوگ مارےگئے ۔

2014 سے 2021 تک شام میں داعش کے خلاف امریکی حملوں میں 2 لاکھ 69 ہزار جبکہ یمن میں 2002 سے 2021 تک ایک لاکھ 12 ہزار لوگ مارےگئے۔

سنہ دو ہزار کی دہائی میں سی آئی اے نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے شروع کیے۔ صدر اوباما نے اپنے دور میں یہ حملے بڑھا دیے ، اسی دوران امریکا نے صومالیہ میں القاعدہ  سے منسلک عناصر کے خلاف فضائی حملے کیے، 2011 میں امریکا نے نیٹو اتحاد کے ساتھ مل کر لیبیا میں مداخلت کی جس کے بعد ملک طویل بدامنی کا شکار ہوا۔

مہنگی اور تباہ کن بیرونی جنگوں میں امریکی شمولیت ختم کرنے کا وعدہ کرنےکے باوجود صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جنگ مسلط کر دی، اپنے پیش رو صدور کی طرح ٹرمپ  نے بھی امریکی مفادات کے حصول کے لیے فوجی طاقت پر انحصار کیا۔

مزید خبریں