ایران پر حملے سے عین قبل مودی کے دورہ اسرائیل پر سنگین سوالات اٹھ گئے

نئی دہلی(روشن پاکستان نیوز) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دور ہ اسرائیل پر عالمی میڈیا اور  بھارتی اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید جاری ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر حملے سے عین قبل مودی کا اسرائیل کا دورہ بھارت کو عالمی سطح پر مشکل صورتحال سے دوچار کرگیا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو ذاتی مفادات کی نذر کیا اور  ایران پر حملے سے عین قبل اسرائیل یاترا کی ٹائمنگ نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بھارتی پارلیمنٹ میں راہول گاندھی نے پانچ لڑاکا طیارے کھونے کی تصدیق کر دی، سحر کامران کا ردعمل

عالمی میڈیا کے مطابق مودی نے ٹرمپ سے دوستانہ تعلقات کے بدلے نیتن یاہو کی انتخابی مہم میں ان کی مدد کی، مودی کا ایران حملے سے پہلے دورہ اسرائیل مشکوک اور سفارتی طور پر خطرناک عمل تھا جب کہ مودی کواسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ’میڈل‘ محض نمائشی تھا۔

اس حوالے سے بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مودی کا اصل ہدف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی حاصل کرنا تھا۔

دوسری جانب سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر کرنل (ر)  میکگریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جہاز بھارتی بندرگاہوں پر سامان اتار رہے ہیں اور امریکی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے۔

دوسری جانب بھارتی اپوزیشن نے مودی کے دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ایران سے بے وفائی کہا ہے۔

کانگریس،کیمونسٹ پارٹی، مقبوضہ کشمیرکےلیڈرز اور سول سوسائٹی نے مودی کی منافقانہ سیاست پرتنقید کی جب کہ اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟

اس کے علاوہ سونیا گاندھی اور جے رام رمیش نے دورے کو بھارت کی روایتی پالیسی سے انحراف قرار دیا۔

مزید خبریں