جب تک اس قوم کو اسکا جائز حق نہیں دیا جائے گا یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا،راجہ محمدسلیم

اسلام آباد() قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 169 رحیم یار خان سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوارراجہ محمد سلیم نے مطالبہ کیا ہے کہ خارج شدہ ووٹوں کی تصدیق اور دوبارہ گنتی، 16 پولنگ اسٹیشنز میں فنگر پرنٹس کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق،فارم 45 کے مطابق ہماری موجودگی میں فارم 47 کے رزلٹ کی تیاری کی جائے، الیکشن کمیشن انکی 13 فروری سے دائر درخواست کو سنے اور انصاف پر مبنی فیصلہ کرے،انصاف کے حصول کیلئےالیکشن ٹریبونلز، سپریم کورٹ سمیت ہر حد تک جائیں گےاور سڑکوں پر احتجاج کرینگے،جب تک اس قوم کو اسکا جائز حق نہیں دیا جائے گا یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا،

نیشنل پریس کلب اسلا م آباد میں اپنے قانونی مشیر عمر شریف باجوہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ محمد سلیم کا مزید کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو تمام تر حربوں کے باوجوعوام نے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئےمخالفین کا باجہ بجاتے ہوئے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ لوگوں کو ووٹ دیا،پورے ملک سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ لوگوں کو ملنے والے ووٹون کی تعداد تین کروڑ سے زائد رہی،پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ جتنے والے امیدواروں کی تعداد 180 بنتی ہے جسے دھونس دھاندلی کے ذریعے 92 تک محدود کیا گیا ، الیکشن ے پہلے اور پولنگ کے دن پی ٹی آئی کے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکنے کیلئے ان پر جھوٹے اور بے بنیاد پرجے درج کرکے گرفتاریاں کی گئیں،ہمارا نشان ہم سے چھینا گیا مگر اس کے باوجود عوام نے پی ٹی آئی پر بھر پور اعتماد کرتے ہوئے تاریخی کامیابی سے ہمکنار کیا مگر پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چرا لیا گیا اور من پسند امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفیکشنز جاری کئے گئے،

این اے 169 رحیم یار خان میں ہمارے ٹوٹل 321 پولنگ اسٹیشنز تھے جن میں سے اکثر پولنگ اسٹیشنز پر ہمارے پولنگ ایجنٹس کو بیٹھنے ہی نہیں دیا گیا، جب نتائج آنے کاسلسلہ شروع ہوا تو رات تین بجے تک 200 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مجھے اپنے مخالف امیدواروں پر تیرہ ہزار ووٹوں کی برتری حاصل تھی کہ اچانک نتائج آنے کا سلسلہ روک دیا گیا جو صبح دس بجے تک رکا رہا اور پھر جب نتائج کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو دھاندلی کے ذریعے 16 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں ردوبدل کرکےتیسرے نمبر پر موجود پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ محمود کو برتری دلوا دی گئی، جب ہم آر او کے دفتر گئے تو ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا جس پر ہم بہاولپور میں ہائیکورٹ چلے گئے ،عدالت نے آر او کو فارم 45 کے مطابق فارم 47 مہیا کرنے کا حکم دیا مگر آر او نے ہمیں فارم دینے سے انکار کر دیا،ہم نے 13 فروری سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر رکھی ہے مگر دس دن گزرنے کے باوجود کیس سماعت کیلئے مقرر نہ ہو سکا ہے،

مزیدپڑھیں:عون چوہدری یا سلمان اکرم راجہ، الیکشن کمیشن نے این اے 128 سے متعلق اپیل کا فیصلہ دے دیا

ہمارے ساتھ جو کچھ آر او نے کیا وہی چیف الیکشن کمشنر کر رہے ہیں، راجہ محمد سلیم نے مطالبہ کیا کہ خارج شدہ ووٹوں کی تصدیق اور دوبارہ گنتی، 16 پولنگ اسٹیشنز میں فنگر پرنٹس کے ذریعے ووٹوں کی تصدیق،فارم 45 کے مطابق ہماری موجودگی میں فارم 47 کے رزلٹ کی تیاری کی جائے، الیکشن کمیشن انکی 13 فروری سے دائر درخواست کو سنے اور انصاف پر مبنی فیصلہ کرے،انصاف کے حصول کیلئےالیکشن ٹریبونلز، سپریم کورٹ سمیت ہر حد تک جائیں گےاور سڑکوں پر احتجاج کرینگے۔

مزید خبریں