لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں گاڑیوں کی چوری کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جہاں ہر چار منٹ بعد ایک گاڑی چوری ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ ایسے مقدمات میں ملوث افراد پر فردِ جرم عائد ہونے کی شرح صرف 3 فیصد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں گاڑیوں کی چوری کے واقعات ایک دہائی قبل کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ اس صورت حال نے گاڑیوں کے مالکان میں تشویش پیدا کردی ہے، جبکہ پولیس کی تفتیشی صلاحیت اور جرائم کی روک تھام کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس فورسز کو عملے کی کمی اور محدود وسائل جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی چوری کے واقعات کی مؤثر تحقیقات اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
برطانیہ میں تاریخ رقم: پارلیمنٹ کی نشست پر باحجاب صومالیہ نژاد ساگل عبدی ولی منتخب
رپورٹ کے مطابق چوری شدہ گاڑیوں کو منظم جرائم پیشہ گروہ بیرونِ ملک منتقل کردیتے ہیں، جن میں کانگو اور جمیکا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ بعض گاڑیوں کو مکمل حالت میں دوسرے ممالک بھیج دیا جاتا ہے، جبکہ کئی گاڑیوں کے پرزے الگ کرکے فروخت کردیے جاتے ہیں۔
گاڑیوں کی چوری میں اضافے کے اثرات انشورنس کے شعبے پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ بڑھتے ہوئے خطرات اور نقصانات کے باعث گاڑیوں کی انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے گاڑی مالکان پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں گاڑیوں کی چوری کی روک تھام، پولیس کے وسائل میں اضافے اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ چوری شدہ گاڑیوں کی برآمدگی بہتر بنائی جا سکے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔











