اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو جہاں دنیا بھر میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے وہیں اب شریک حیات کی تلاش میں بھی مصنوعی ذہانت کی مدد لی جانے لگی ہے۔
جی ہاں واقعی جاپان میں اس ٹیکنالوجی کو جوڑوں کو ملانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور سیکڑوں جوڑوں کی شادی اس کی معاونت سے ہوچکی ہے۔
واضح رہے کہ جاپان ایسا ملک ہے جہاں شادیوں کی شرح میں کمی آئی ہے جبکہ بوڑھے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے کیونکہ شرح پیدائش بھی گھٹ چکی ہے۔
مقامی حکومتوں کی جانب سے مختلف کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے اے آئی پر مبنی سسٹمز کو صارفین کی شخصیات، اقدار، دلچسپیوں، مشاغل اور طرز زندگی کے انتخاب کو مدنظر رکھ کر ان کے شریک حیات کا نام تجویز کیا جاتا ہے۔
اس کے لیے ایک ایپ کو ستمبر 2024 میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ جو افراد شادی کے خواہشمند ہیں ، ان کے لیے اپنے زندگی بھر کے ساتھی کو تلاش کرنا آسان ہو جائے۔
ایپ کے صارفین کو اپنی شناخت کے مستند شواہد جمع کرانا ہوتے ہیں اور یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ قانونی طور پر پہلے سے شادی شدہ نہیں، آمدنی سے متعلق دستاویزات جمع کرانا ہوتے ہیں جبکہ ایپ کا حصہ بننے سے قبل ایک آن لائن انٹرویو کا حصہ بننا ہوتا ہے۔
برطانیہ میں جیل نیل پالش پر پابندی، صحت کے خدشات کے باعث حکومت کا بڑا فیصلہ
حکام کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی بدولت زیادہ سے زیادہ افراد بالخصوص نوجوانوں میں شادی کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
اس سے قبل نوجوانوں کی جانب سے جوڑوں بنانے میں مدد فراہم کرنے والی روایتی سروسز کا حصہ بننے میں عدم دلچسپی ظاہر کی جاتی تھی۔
اس پروگرام کے نتیجے میں جاپان کے متعدد شہروں میں شادیوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
پروگرام کا بنیادی مقصد جاپان میں شرح پیدائش میں اضافہ کرنا ہے اور حکومت کی جانب سے شادیوں کی شرح بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی اپنے طور پر تو رشتے طے نہیں کرسکتی مگر یہ مناسب شریک حیات کی تلاش کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ضرور دور کرسکتی ہے۔











