بیجنگ / اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے بعد عالمی سیاست میں ایک نئی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں سفارتی بیانات کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے اشارے بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کے دورے کے دوران امریکہ نے نرم اور متوازن حکمتِ عملی اختیار کی تاکہ مذاکرات کا ماحول متاثر نہ ہو، تاہم دورہ ختم ہوتے ہی ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا مؤقف پہلے سے زیادہ سخت دکھائی دیا۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے معاملے پر جنگ بندی یا نرم پالیسی کو دوبارہ دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ فوجی آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق امریکہ نے چین کے ساتھ تعلقات کو وقتی طور پر متوازن رکھا تاکہ بڑے تجارتی اور سفارتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
دوسری جانب اس دورے کے دوران غیر معمولی سکیورٹی اقدامات بھی دیکھنے میں آئے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی وفد نے خصوصی محفوظ الیکٹرانک آلات استعمال کیے تاکہ چینی نگرانی یا جاسوسی کے خدشات سے بچا جا سکے۔
ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے مکمل تباہ کر دیں گے، ٹرمپ کی ایک بار پھر دھمکی
اگرچہ اس دورے کے دوران ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبے میں بڑے معاہدوں کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس سفارتی سرگرمی کا سب سے بڑا فائدہ چین کو ہوا، خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم نے عالمی اداروں کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بڑی طاقتیں آمنے سامنے آتی ہیں تو اقوامِ متحدہ اکثر غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق غزہ، یوکرین اور ایران جیسے تنازعات میں اس وقت طاقت کی سیاست غالب نظر آ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور چین تجارت، ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے معاملات پر مشترکہ راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے دنیا کے کئی بڑے بحرانوں کے حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایران کے معاملے پر چین کے مؤقف کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر ابہام موجود ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ چین ایران کی جوہری حمایت محدود کرنے پر آمادہ ہے، تاہم اقوامِ متحدہ میں چین اور روس نے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایک قرارداد کو ویٹو کیا کیونکہ اس میں ایران پر حملوں کی مذمت شامل نہیں تھی۔
چین مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ایران کے معاملے کا حل بین الاقوامی قوانین اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے، نہ کہ یکطرفہ دباؤ کے ذریعے۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی صورتحال کے دوران پاکستان کا کردار بھی اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ کئی خلیجی ممالک اب پاکستان، ترکی اور مصر کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ حالیہ کشیدگی کے دوران صرف امریکی فوجی اڈوں پر انحصار کو ناکافی سمجھا گیا۔
دوسری جانب بھارت کی اسرائیل کے ساتھ واضح قربت نے اسے ایران اور بعض خلیجی ممالک کے مقابل ایک مشکل سفارتی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے، جس کے اثرات خطے کی نئی سیاسی صف بندی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔











