راولپنڈی (روشن پاکستان نیوز) اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں آٹے کا شدید بحران سر اٹھانے لگا ہے جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں یکدم بھاری اضافہ ہو گیا ہے۔
آٹے کی قیمتیں بڑھنے سے مقامی نان بائی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت یا تو آٹے کی قیمتیں فوری کم کرے یا پھر انہیں نان اور روٹی کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی جائے۔
اسلام آباد: خلع کی شرح میں خطرناک اضافہ، یومیہ 300 سے زائد مقدمات دائر
مارکیٹ ذرائع کے مطابق فائن آٹے کی 80 کلو گرام کی بوری کی قیمت 11300 روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لال آٹے کی 80 کلو کی بوری 10300 روپے سے اوپر چلی گئی ہے۔
دوسری جانب غریب اور متوسط طبقے کے لیے دستیاب سرکاری آٹے کا 20 کلو کا تھیلا بھی 1850 روپے سے مہنگا ہو کر 2250 روپے کا ہو گیا ہے۔
نان بائیوں کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ وہ پرانی قیمت پر روٹی اور نان فروخت کرنے کے سکت نہیں رکھتے۔ اگر حکومت نے آٹے کی قیمتیں کم نہ کیں تو وہ نان اور روٹی کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوں گے۔
اس سنگین صورتحال پر غور کرنے کے لیے نان بائی ایسوسی ایشن نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں مہنگے آٹے کے خلاف ہڑتال، احتجاج، اور نان روٹی کی قیمتوں میں خودساختہ اضافے سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت کر کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔











