پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا سیاست تنقید کی زد میں، نوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر سوالات

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان تحریکِ انصاف کی سوشل میڈیا سیاست ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے، جہاں سیاسی اختلاف کو دلیل اور برداشت کے بجائے گالم گلوچ، تضحیک اور ذاتی حملوں میں تبدیل کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہوتا ہے، لیکن جب سیاسی کارکن تنقید کے جواب میں بدزبانی، کردار کشی اور نفرت انگیز رویہ اختیار کریں تو اس سے نہ صرف سیاسی ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ نوجوان نسل کی سوچ اور تربیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریکِ انصاف کے بعض سوشل میڈیا کارکنان دلیل اور مکالمے کے بجائے مخالفین کو نشانہ بنانے، ذاتی حملے کرنے اور تضحیک آمیز مہمات چلانے کو سیاسی کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاسی تقسیم پہلے سے زیادہ گہری ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان کسی بھی سیاسی جماعت کا سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں سیاسی شعور، برداشت اور اخلاقیات کے بجائے صرف جذباتی ردِعمل سکھایا جائے تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔

بلوچستان کی ترقی اور نوجوانوں کے مسائل پر وفاقی وزیر سید عمران شاہ اور سردار حمزہ عباسی کی اہم ملاقات

بعض مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں جذباتی بیانیے نے کارکنان کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں ہر اختلاف رکھنے والے شخص کو دشمن سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیاسی گفتگو اکثر ذاتی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

دوسری جانب سیاسی مخالفین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر تحریکِ انصاف کی قیادت واقعی سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی چاہتی تو وہ تصادم، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز مہمات کے بجائے مفاہمت، سنجیدہ سیاست اور قانونی راستہ اختیار کرتی۔ ناقدین کے مطابق بعض رویے ایسے ہیں جو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتے ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت اپنی جگہ، لیکن ان کے نام پر چلنے والی بعض آن لائن مہمات نے پارٹی کے سنجیدہ سیاسی تشخص کو نقصان پہنچایا ہے۔ گالم گلوچ اور غیر مہذب رویہ نہ صرف عام ووٹر کو بددل کرتا ہے بلکہ سیاسی جماعت کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں نوجوانوں کی اخلاقی تربیت انتہائی اہم ہے۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر برداشت، اختلافِ رائے کا احترام اور شائستگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنان، خاص طور پر نوجوانوں، کو مثبت سیاسی رویوں، دلیل، مکالمے اور جمہوری اقدار کی تربیت دیں تاکہ سیاست نفرت اور تقسیم کے بجائے شعور اور بہتری کا ذریعہ بن سکے۔

مزید خبریں