لاس اینجلس(روشن پاکستان نیوز ): سونے اور قیمتی دھاتوں سے مالامال سیارچے ’16 سائیکی‘ تک پہنچنے کے لیے ناسا نے یہ ترکیب لگائی ہے کہ خلائی گاڑی کو مریخ کے مدار کے قریب سے گزارا جا رہا ہے، تاکہ مریخ کی کششِ ثقل کی وجہ سے اس کی رفتار بڑھ جائے۔
روئٹرز نے 15 مئی کو خبر دی ہے کہ ناسا کا ’سائیکی پروب‘ دھاتوں سے بھرپور سیارچے کی جانب سفر میں کششِ ثقل سے رفتار بڑھانے کے لیے مریخ کے قریب پہنچ گیا ہے، گزشتہ روز جمعہ کو یہ خلائی گاڑی مریخ کے قریب سے گزرنے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق ’کششِ ثقل بوسٹ‘ حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا تھا، تاکہ خلائی جہاز کو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے معلوم دھاتی سیارچے کی جانب اپنے حتمی راستے پر ڈالا جا سکے۔ اس سیارچے کو ایک قدیم ابتدائی سیارے کا باقی ماندہ مرکز سمجھا جا رہا ہے۔
سیارچے ہی کے نام پر بنائی گئی خلائی گاڑی ’’سائیکی پروب‘‘ کو اکتوبر 2023 میں لانچ کیا گیا تھا۔ یہ 2.2 ارب میل کے منصوبہ بند سفر پر روانہ ہوا، اور توقع ہے کہ تقریباً 3 سال میں مریخ اور مشتری کے درمیان (مرکزی سیارچوی پٹی کے بیرونی کناروں میں واقع) اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔
ناسا کے مطابق جمعہ کو توقع تھی کہ یہ خلائی جہاز 12,333 میل فی گھنٹہ (19,848 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے مریخ سے تقریباً 2,800 میل (4,500 کلومیٹر) کے فاصلے سے گزرے گا، جب کہ وہ سرخ سیارے کی کششِ ثقل استعمال کرتے ہوئے اپنی رفتار بڑھائے گا اور سیارچے کی جانب سفر کے دوران اپنے راستے کو درست کرے گا۔
مریخ کے قریب سے گزرتے ہوئے یہ خلائی گاڑی جو رفتار پکڑے گی، اسے ’سلِنگ شاٹ فلائی بائی‘ کہا جا رہا ہے یعنی جس طرح غلیل سے پتھر چھوڑا جاتا ہے کچھ اسی طرح یہاں کششِ ثقل کام کرے گی۔ اس ترکیب کو فلائٹ پلان میں اس لیے شامل کیا گیا تھا تاکہ خلائی گاڑی کے ’سولر الیکٹرک آئن تھرسٹر سسٹم‘ میں استعمال ہونے والی زینون (xenon) گیس ایندھن کی مقدار بچائی جا سکے۔ یہ نظام پہلی بار کسی بین السیاروی خلائی مشن میں استعمال ہو رہا ہے۔
تاہم، سائیکی کی آپریشنز ٹیم نے یہ بھی منصوبہ بنایا تھا کہ مریخ کے قریب اس ملاقات کو پروب کے سائنسی آلات کی مشق اور ان کی درستی معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، جن میں خصوصی کیمرے بھی شامل ہیں جو مختلف طولِ موج کی روشنی میں اجسام کی تصاویر لینے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
مریخ پر اربوں سالہ قدیم دریا دریافت، ناسا کی بڑی کامیابی
ایک چھوٹی وین کے برابر حجم رکھنے والا سائیکی پروب توقع ہے کہ اگست 2029 میں اپنی منزل تک پہنچ جائے گا اور 26 ماہ تک اس سیارچے کے گرد مدار میں رہے گا۔ اس دوران وہ مختلف آلات کے ذریعے اس خلائی چٹان کی کششِ ثقل، مقناطیسی خصوصیات اور ساخت کی پیمائش کرے گا۔ اس کے بعد خلائی جہاز بتدریج سیارچے کے مزید قریب جاتا جائے گا اور 2031 میں اپنا مشن مکمل کرے گا۔
قریب سے مطالعے کے لیے خلائی جہاز کے ذریعے منتخب کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا سیارچہ ’سائیکی‘ زیادہ تر لوہے، نِکل، سونے اور دیگر دھاتوں پر مشتمل سمجھا جاتا ہے، جن کی مجموعی فرضی مالی قدر 10 کوآڈریلین ڈالر لگائی گئی ہے۔
تاہم سائنس دانوں کے مطابق اس مشن کا خلائی کان کنی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا مقصد زمین اور دیگر چٹانی سیاروں کی تشکیل کو بہتر طور پر سمجھنا ہے، جو پگھلی ہوئی دھاتی کور کے گرد بنے ہیں۔ کیوں کہ زمین کا پگھلا ہوا مرکز اتنا گہرا اور گرم ہے کہ اس کا براہِ راست مطالعہ ممکن نہیں ہے۔
1852 میں دریافت ہونے والے اور یونانی دیومالا میں روح کی دیوی کے نام پر رکھے گئے سائیکی کو ان تقریباً 9 معلوم سیارچوں میں سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے، جو زمینی ریڈار مشاہدات کے مطابق زیادہ تر دھات پر مشتمل دکھائی دیتے ہیں، اگرچہ ان میں کچھ پتھریلا مادہ بھی شامل ہے۔ تاہم سائنس دان ابھی صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ سائیکی کی شکل کیسی ہے، جب تک پروب اس کی پہلی تصاویر واپس نہ بھیج دے۔
سیارچے کی اصل کے بارے میں نمایاں نظریہ یہ ہے کہ سائیکی کسی نومولود سیارے کا کبھی پگھلا ہوا مگر اب منجمد اندرونی حصہ ہے، جو نظامِ شمسی کے ابتدائی دور میں دوسرے خلائی اجسام کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تھا۔
اپنے سب سے چوڑے حصے میں تقریباً 173 میل (279 کلومیٹر) قطر رکھنے والا یہ سیارچہ سورج کے گرد زمین کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ فاصلے پر گردش کرتا ہے، حتیٰ کہ جب یہ زمین کے قریب ترین مقام پر بھی ہو۔











