آئی ایم ایف کی نان فائلرز پر پابندیاں سخت کرنے اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجاویز

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آئی ایم ایف نے ایف بی آر ٹیکس وصولیوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نان فائلرز پر پابندیاں سخت کرنے اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجاویز دی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیوں میں مسلسل کمی اور محدود ٹیکس نیٹ کو معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے اصلاحات تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صوبائی سطح پر الگ الگ جی ایس ٹی نظام ہونے کی وجہ سے پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ اگر سیلز ٹیکس میں کارکردگی کو 35 فیصد تک بہتر کر لیا جائے تو حکومت کو 2100 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومتی ریونیو کا ایک بڑا انحصار پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز پر ہے جبکہ مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ اب بھی جی ڈی پی کے 1.2 فیصد کے برابر ہے۔

نئے بجٹ میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے شعبوں میں چھوٹ میں کمی کا فیصلہ

رپورٹ میں زرعی شعبے کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملکی جی ڈی پی میں 24.6 فیصد کا بڑا حصہ ڈالنے کے باوجود زرعی شعبہ صرف 0.3 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔ سال 2025 میں زرعی انکم ٹیکس بڑھایا گیا تھا مگر اس کی وصولیاں توقعات سے کافی کم رہیں۔

آئی ایم ایف نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زرعی ٹیکس کے نفاذ کے لیے ایف بی آر کے ڈیٹا کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل، رئیل اسٹیٹ اور بزنس سروسز کو بھی کم ٹیکس دینے والے شعبے قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ آئندہ وفاقی بجٹ میں نان فائلرز کے لیے بڑی مالی ٹرانزیکشنز کو محدود کرنے کے سخت اقدامات کرے۔ ساتھ ہی نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ریٹیلرز کی ٹیکس رجسٹریشن اسکیم کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ سیلز ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے ملک میں ڈیجیٹل انوائسنگ کو مرحلہ وار لازمی قرار دینے اور پیداواری نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر میں نیا آڈٹ مینول اور آڈٹ پالیسی اگست 2026 تک نافذ ہونے کی توقع ہے۔

مزید خبریں