واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکا کے ایران کے خلاف جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
پینٹاگون حکام کے مطابق 2 ہفتے قبل کانگریس کو ایران جنگ پر 25 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ دیا گیا تھا جو کہ اب بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
فوجی سازوسامان کی مرمت اور تبدیلی کے اخراجات بڑھنے سے لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا کہنا ہے کہ امریکی اڈوں کے نقصانات شامل کیے جائیں تو جنگی اخراجات 50 ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں۔
پینٹاگون کی خفیہ ای میل
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی ایک انتہائی خفیہ ای میل منظرِ عام پر آئی ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق اس ای میل میں اسپین کو نیٹو سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسپین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اس وقت آئی جب اسپین نے ایران جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی کھلی مخالفت کی اور اپنا ایئر اسپیس بھی امریکی طیاروں کے لیے بند کر دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کو بار بار سراہا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
پینٹاگون کا موقف ہے کہ اسپین نے نہ صرف تعاون نہیں کیا بلکہ ایران کے حق میں بیانات بھی دیے، اس لیے اسے اتحاد میں رکھنا درست نہیں۔لیک ہونے والی اس خفیہ ای میل سے تین اہم انکشافات ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ ای میل میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا فاک لینڈ جزائر پر برطانیہ کے دعوے سمیت یورپ کے دیگر سامراجی قبضوں کے لیے اپنی سفارتی حمایت کا از سرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکا اب ارجنٹائن کے مقابلے میں برطانیہ کی حمایت سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔
ای میل میں ان ممالک کو نیٹو سے نکالنے کی تجویز دی گئی ہے جنہوں نے ایران جنگ میں امریکا کی مشکلات بڑھائیں۔ اس کے علاوہ ان ممالک کو اہم عہدوں سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جو جنگ میں کمزور کڑی ثابت ہوئے، جن میں ترکیہ اور خود برطانیہ کا نام بھی شامل ہے۔
اس ای میل سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکا فی الحال نیٹو سے باہر نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ اپنے فوجی ٹھکانے بند کرنے کا متبادل دیکھ رہا ہے۔ اس سے قبل یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ امریکا خود نیٹو چھوڑ سکتا ہے، لیکن اب پالیسی ‘ناپسندیدہ ممالک’ کو نکالنے کی نظر آتی ہے۔
اس انکشاف کے بعد نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان صف بندیاں شروع ہو گئی ہیں اور اسے بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔











