راولپنڈی(کرائم رپورٹر) راولپنڈی پولیس نے مختلف جرائم کے خلاف کارروائیوں، اہم مقدمات میں پیشرفت اور سوشل میڈیا پر جاری مبینہ پراپیگنڈے پر اپنا مؤقف جاری کر دیا۔
ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق پولیس شہداء ویلفیئر فلنگ اسٹیشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فلنگ اسٹیشن کا قیام پولیس ویلفیئر رولز کے تحت ضلعی مینجمنٹ کمیٹی کی نگرانی میں اوپن بڈنگ کے ذریعے عمل میں لایا گیا جبکہ شفاف طریقہ کار کے تحت سب سے زیادہ بولی دینے والی Shell Pakistan کو معاہدہ دیا گیا۔
پولیس کے مطابق فلنگ اسٹیشن سے حاصل ہونے والی آمدن مکمل طور پر شہدائے پولیس کے خاندانوں اور غازیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جا رہی ہے۔ ہر ماہ 122 شہداء کے خاندانوں کو 15 ہزار روپے بذریعہ کراس چیک ادا کیے جاتے ہیں جبکہ معذور اور شدید زخمی غازیوں کو ماہانہ 10 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔
ترک سفیر کا آئی آر ایس تقریب میں پاکستان اور علاقائی امن کے لئے حمایت کا اعادہ
حکام کے مطابق کچہری چوک ری ماڈلنگ کے دوران معاہدے کی خلاف ورزی اور عدم ادائیگیوں پر فلنگ اسٹیشن کے مینیجر عادل اکرام کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جبکہ شیل پاکستان کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ شخص کی ڈیلرشپ ختم کی جائے۔
دوسری جانب رتہ امرال پولیس نے ایک ہفتہ قبل معمولی تلخ کلامی کے بعد خاتون اور ان کے بیٹے پر تشدد کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ تشدد کیا تھا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔
ادھر وارث خان پولیس نے 11 سالہ بچی سے نازیبا حرکات کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ بچی اسپتال میں زیر علاج تھی جہاں صفائی کرنے والے شخص نے مبینہ طور پر بدسلوکی کی۔ پولیس نے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا۔
اسی طرح سید خالد محمود ہمدانی نے ڈبل مرڈر کیس کے سلسلے میں تھانہ دھمیال کا دورہ کیا اور تفتیشی ٹیم کو میرٹ پر تحقیقات مکمل کرنے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی۔ سی پی او کا کہنا تھا کہ سنگین مقدمات میں انصاف کی بلا تفریق فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
علاوہ ازیں راولپنڈی پولیس کی مؤثر پیروی کے نتیجے میں عدالت نے قتل کے مقدمے میں تین ملزمان کو سزائیں سنا دیں۔ عدالت نے مرکزی مجرم مشتاق کو سزائے موت اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ دو دیگر ملزمان مقصود اور وقاص کو عمر قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے ہرجانے کی سزا دی گئی۔ یہ مقدمہ مئی 2024 میں تھانہ صادق آباد میں درج کیا گیا تھا۔











