بدھ,  02  ستمبر 2026ء
پاکستان ہے تو ہم ہیں۔۔

میں فیس بک پر کافی مدت سے ہوں، اسے میں اپنے کتھارسس کے لیے استعمال کرتا ہوں کیونکہ یہ میرا اپنا اسپیس ہے، جو بات بطور رپورٹر میں نہیں کہہ پاتا وہ فیس بک پر کہہ دیتا ہوں اور عموماً طنز و مزاح کا سہارا لیتا ہوں تاہم میں مذاق اور بدتمیزی میں فرق رکھتا ہوں۔ سیاستدانوں کے حوالہ سے اس لیے بات ہوتی ہے کہ یہ سب عوام کو جوابدہ ہیں اور ہونا چاہیے۔

کچھ ایسے سنجیدہ لوگ جو مزاح میں اور فلسفے میں فرق نہیں سمجھ پاتے وہ باقاعدہ آستینیں چڑھا کر لڑنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں، آپ گدھے کی تصویر فیس بک پر لگائیں کسی عنوان کے بغیر تو ایسے لوگ بے دریغ آ کر کہیں گے کہ ہمارے لیڈر کو گدھا کیوں کہا ہے؟۔ آپ لاکھ کہیں کہ بھائی میں نے تو کسی کا نام نہیں لکھا یا میں نے تو کسی اور کو کہا ہے تو یہ چمک کر کہیں گے اچھا جیسے ہم بیوقوف ہیں اور جانتے نہیں کہ گدھا کون ہے؟۔

گزشتہ دنوں ایک فیس بک پوسٹ پر لکھا تھا کہ کپتان کی ہمشیرہ نے کہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے مصر کے صدر محمد مرسی کی طرح مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میں نے وہ سکرین شاٹ لگایا اور ساتھ ایک چھوٹا سا کمنٹ لکھ دیا کہ کبھی نیلسن منڈیلا بننے کا شوق تو کبھی مرسی۔۔ کبھی انسان بننے کی کوشش ہی کر لیتے ۔۔ تو کتنا اچھا ہوتا۔۔ تھا یہ ایک خالص طنز۔۔ ناراضگی کے بجائے ہنسنے والی بات تھی مگر ہمارے ایک بہت سینئر صحافی جن کی خود بھی اور ان کے خاندان کی بھی پوری زندگی جماعت اسلامی کے ساتھ وابستگی رہی وہ اس پر ناراض ہو گئے۔۔ یہاں تک کہ اس سارے معاملے کو نعوذ بااللہ حسینیت اور یزیدیت کا معاملہ بنا دیا۔۔ بولے کہ میں یزید پر لعنت بھیجتا ہوں۔

میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں اس لیے کہ وہ ہمارے سینئر ہیں اس لیے دست بستہ عرض کی کہ حضور والا، یہ سیاسی معاملہ ہے، اسے سیاسی ہی رہنے دیں۔ ایک شخص جو گناہ میں اس بری طرح لتھڑا ہو کہ اخلاقی گراوٹ کے ساتھ ساتھ مالی کرپشن میں بھی بری طرح ملوث ہو اسے کس طرح حسینیت کا علمبردار بنا سکتے ہیں۔ میرے الفاظ یہ تھے ہر شخص نے اپنا یزید اور اپنا حسین بنایا ہوا ہے۔۔ حالانکہ یزید ملعون بھی ایک ہی تھا اور امام عالی مقام بھی ایک ہی تھے ان کا کسی کے ساتھ مقابلہ کرنا بیہودگی ہے۔۔ سیاست جو سیاست رہنے دیں ان میں دیوتا تلاش کرنا چھوڑ دیں۔۔ یزید ملعون پہ لعنت میں لاکھوں مرتبہ بھیجتا ہوں اور بھیجنی بھی چاہئے۔۔

ان کا غصہ پھر بھی ٹھنڈا نہیں ہوا اور آمریت کے خلاف ایک لمبا چوڑا کمنٹ لکھ بھیجا۔۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے تو آمریت کے خلاف عملی جدوجہد کی لیکن جس کے اقتدار کی جنگ کو آپ نعوذ باللہ حسینیت سے تشبیہہ دے رہے ہیں اسے کون اقتدار میں لایا تھا؟۔ اس نے میڈیا کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟۔

حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ جن میڈیا کی پابندیوں کا ذکر آج لوگ کر کے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ویوز اور داد پاتے ہیں یہ پابندیاں دراصل پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ہی لگانا شروع کی گئیں، تب ایک معاون خصوصی کے ذریعے وزیر اعظم کی بیٹ ان کو دلوائی گئی جو پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز تھے، یہ آغاز تھا۔۔ اس کے بعد میڈیا کو مثبت کوریج کے لیے کہا گیا۔۔ وہ کم بخت جو میری طرح مثبت کوریج نہیں کر رہے تھے انہیں گھر بٹھا دیا گیا، لاہور میں میاں نواز شریف کی بیرون ملک سے آمد کی کوریج روکنے کے لیے جو کچھ کیا گیا وہ دکھانے کے لیے طلعت حسین لاہور میں موجود تھے۔ طلعت کا وہ پروگرام روک دیا گیا۔ میڈیا پر یہ بیانیہ بنایا گیا کہ لوگ نواز شریف کے لیے باہر ہی نہیں نکلے۔ اس کے بعد طلعت حسین اور نصرت جاوید جیسے کئی اینکرز کو آف ائیر کیا گیا، کسی کو اغوا کیا گیا، کسی کا بازو توڑا گیا تو کسی کو ابصار عالم کی طرح گولی ماری گئی۔
جس وقت ابصار عالم کو گولی ماری گئی تو اس وقت یہ سارے یوٹیوبرز جو آج میڈیا پر قدغن کا رونا رو رہے ہیں یہ سب اس وقت ابصار سمیت دیگر کا مذاق اڑاتے تھے، حامد میر کو لگنے والی گولی بھی مصنوعی قرار دیتے تھے اور ابصار پر حملہ بھی ان کی نظر میں جعلی تھا۔۔ یہ کسی صحافی پر حملے پر کہتے تھے کہ اسے لڑکی کے بھائیوں نے مارا ہے۔ آج انہیں جمہوریت اور آزادی صحافت کی یاد ستا رہی ہے۔۔

آج یہ کہتے ہیں کہ قیدی کا نام کیوں لینے پر پابندی ہے اس کے میڈیا پر آنے پر کیوں پابندی ہے؟۔ یہ کیوں نہیں یاد کرتے کہ جب نواز شریف وطن واپس آ رہے تھے تو انہوں نے ٹکر بنا کر بھجوائے تھے مجرم نواز شریف کی وطن آمد کے حوالہ سے تیاریاں مکمل، کوریج پر پابندی ہو گی۔۔ اس کا نام نہیں لیا جا سکے گا۔ خود آج کا قیدی کہتا تھا کہ سزا یافتہ مجرم ہے، اسے ٹی وی پر بات چیت کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟۔

بہرحال بات ہو رہی تھی ہمارے سینئر صحافی حضرت کی، فیس بک پر اس روز کی بحث کے بعد انہوں نے شاید فیس بک پر میری پوسٹ دیکھنی بند کر دیں مگر باقاعدگی سے مجھے فیس بک میسنجر پر تبلیغ کرنا شروع کر دی اور معید زادہ (ان کو میں پیرزادہ تو لکھ نہیں سکتا اور دوسرا والا لکھتے ہوئے معیوب لگتا ہے)، عمران ریاض، صابر شاکر، وجاہت ایس خان اور ایسے سارے یوٹیوبرز کے ویلاگ بھیجنے شروع کر دئیے جو خود تو ڈر کے بچوں سمیت ملک سے بھاگے ہوئے ہیں مگر قوم کے بچوں کو باہر نکل کر ریاست سے ٹکرانے کا مشورہ دے رہے ہوتے ہیں۔۔

میں نے گزشتہ روز انہیں فیس بک میسنجر پر ہی کہا کہ حیرت ہے آپ اب بھی ان یقین رکھتے ہیں؟۔ اس پر یقین مانیں ان کا جواب ایسا تھا کہ میں حیران رہ گیا کہ ایک ایسا سینئر صحافی کیسے وہ باتیں کر سکتا ہے جو حقیقت میں نہیں بلکہ صرف پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پیجز پر دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ دس مئی2025 کو پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی۔ ان کا ارناب گوسوامی کی طرح یہ ماننا ہے کہ یہ جنگ ہوئی نہیں بلکہ امریکا نے جان بوجھ کر بھارت کو اس بات پر تیار کیا کہ وہ پاکستان پر اپنی مرضی کے مقامات پر حملہ کرے اور پاکستان کو بھی ایسے مقامات پر حملے کروائے جس کی پہلے سے تیاری تھی۔

ایک صحافی جو معاشرے کے کان اور آنکھ کا درجہ رکھتے ہیں وہ بین الاقوامی میڈیا اور عالمی رہنماوں کی بات ماننے کے بجائے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے اس پراپیگنڈے کو دہرا رہے ہیں جو بھارت سے جنریٹ ہو رہا ہے۔۔ حیرت ہے انہیں اس بات پر یقین نہیں کہ بھارت کے فرانسیسی رافیل طیارے پاکستان نے مار گرائے جبکہ اسے فرانس بھی تسلیم کر رہا ہے اور خود بھارتی دفاعی تجزیہ کار بھی۔۔ مگر کیا کریں ہم۔۔ کہ ہم سب نے اپنے اپنے یزید اور اپنے اپنے حسین بنا رکھے ہیں، ہم فوراً اپنے خلاف بات کرنے والے کو یزید بنا دیتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔۔ کاش کہ ہم شخصیات کے بجائے ریاست سے پیار کریں کیونکہ میری نظر میں پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان

مزید خبریں