اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان کی مشہور اداکارہ و ماڈل سعدیہ امام نے حکومت سے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کی درخواست کردی۔
حال ہی میں سعدیہ امام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کے ذریعے اپنی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہیں روتے دیکھا گیا جب کہ ویڈیو میں اداکارہ نے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور قتل کے کیسز پر بات کی۔
سعدیہ امام نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں، آیت نور کی رپورٹ پڑھی بچی کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، ادارے کیوں نہیں اٹھ رہے؟ پمز اسپتال میں بچے مرگئے، کوئی ڈاکٹر اور نرس کو آنچ تک نہیں آئی، مصطفیٰ کمال صاحب آپ بدتمیزی کر رہے ہیں، آپ کو وزیر صحت کس نے بنا دیا؟
اداکارہ مومنہ اقبال کے خلاف بیان دینے پر سوشل میڈیا صارفین نے علامہ ناصر مدنی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اداکارہ کا کہنا تھا کہ کیا ہوگیا ہے ہمارے ملک کو ، ہم کب سزا دینا شروع کریں گے؟ خدا کا واسطہ زینب سے لے کر نور مقدم کتنوں کو سزا ہوئی، چوک پر کیوں نہیں لٹکایا جاتا؟
انہوں نے مزید کہا کہ خدا کے واسطے سوشل میڈیا پر پابندی لگائیں، قانون لے کر آئیں کہ کس عمر کے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں، پوری دنیا میں یہ قانون ہے تو ہمارے ملک میں کیوں نہیں؟ آپ گوگل پر کچھ لکھیں تو وہ سب کچھ کھول کر رکھ دیتا ہے، اتنی اجازت کیوں دی گئی ہے اسی لیے ایسا ہورہا ہے۔











