هفته,  08  اگست 2026ء
کیا سسٹم کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے ؟
کیا سسٹم کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے ؟

تحریر: داؤد درانی

یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ ہمارے ملک میں جب کبھی کوئی اہم بات ہوتی ہے اور اسے انکشاف سمجھا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ عام پاکستانیوں کو تو اس کا بہت پہلے سے علم ہے لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز سنائی نہیں دیتی اس لیے عام پاکستانی بیچارہ جتنا بھی شور مچائے اور واویلا کرے کوئی اس کی طرف توجہ نہیں دیتا مگر وہی بات جب کوئی دانشور، بڑا صحافی یا کوئی سیاسی لیڈر کرتا ہے تو ہر طرح شور مچ جاتا ہے اور اس پر بحثیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کیا یہ انکشاف درست ہے کہ غلط ؟
اسی طرح کا ایک انکشاف ہمارے موجودہ وزیر داخلہ جناب محسن نقوی نے بھی کیا ہے جن کو اس وقت پاکستان کی مرکزی کابینہ کا طاقتور ترین رکن سمجھا جاتا ہے بلکہ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے باس یعنی وزیراعظم کو بھی جواب دہ نہیں ہیں اور وہ اسٹبلشمنٹ کے انتہائی اہم نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ محسن نقوی نے پچھلے دنوں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سسٹم فیل ہو چکا ہے اور یہ سسٹم اب مزید چلنے والا نہیں ۔ انہوں نے اس حد تک کہ دیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اگر چودہ گھنٹے بھی کام کریں تو کوئی مثبت تبدیلی ممکن نہیں ۔

بقول انکے اب اس سسٹم کی اوور ہالنگ با الفاظ نقوی ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے یعنی جب کمپیوٹر یا سمارٹ فون کا سسٹم خراب ہو جائے تو اسے ری سیٹ کیا جاتا ہے اسی طرح پاکستانی حکومتی سسٹم کو بھی ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر موصوف کے اس بیان پر ملک میں کھلبلی مچ گئی اخبارات میں کالم چھپ رہے ہیں اور نیوز چینلز پر اس پر تبصرے ہو رہے ہیں کہ کیا واقعی سسٹم فیل ہو چکا ہے اور اگر فیل ہو چکا ہے تو اسے کس طرح سے ری سیٹ کیا جا سکتا ہے اور کیا ری سیٹ کرتے ہوئے موجودہ حکومت کی قربانی دینی پڑے گی کہ یہی حکومت اسے ری سیٹ کرے گی وغیرہ وغیرہ ۔

مگر دوسری طرف ہم جیسے عام پاکستانی اس بات پر مسکرا رہے ہیں کہ بھائیو ہمیں تو آج سے ستر ، پچھتر سال پہلے ہی پتہ تھا کہ ہمارا سسٹم فیل ہے اور یہ چلنے والا نہیں لیکن طاقتور اسٹبلشمنٹ بار بار دھکے لگا کر اسے چلانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ اگر ہمارا سسٹم 1947 سے ہی سٹ ہونا شروع ہو جاتا تو کیا 1970 میں پاکستان ٹوٹ سکتا تھا ؟ سسٹم کی ہی خرابی تھی کہ جس کی وجہ سے آذادی کے محض 23 سال بعد متحدہ پاکستان میں ایسے حالات پیدا ہوگئے یا کر دیے گئے کہ ہمیں شرمناک طریقے سے مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ امید تھی کہ اس عظیم بے عزتی کے بعد ہمارا سسٹم درست ہونا شروع ہو جائے گا مگر ہمارے بڑوں نے تو قسم کھا رکھی تھی کہ سسٹم کو ہر گز سیٹ ہونے نہیں دینا کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر پاکستان کا سسٹم سیٹ ہوگیا تو ہمارے بڑے بڑے جاگیر دار اور سرمایہ دار حکمرانوں کا سسٹم فیل ہو جائے گا اس لیے یہ لوگ اپنا سسٹم سیٹ رکھنے کے لیے پاکستان کے سسٹم کو بار بار مختلف طریقوں سے سیٹ کرکے عام لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔

پاکستان کا عام شہری روز اول سے یہ بات جانتا ہے کہ ہمارے ملک کا سسٹم فیل ہے اور یہ چلنے والا نہیں ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر پاکستان چل کیسے رہا ہے تو اس کا جواب سادہ سا ہے کہ پاکستان کا سسٹم اس وقت عالمی مالیاتی اداروں کی بیساکھیوں کے زریعے چل رہا ہے جس میں عوام تباہ حال اور خواص خوش ہیں اس لیے سسٹم کو کسی نہ کسی شکل میں چلایا جا رہا ہے ۔

اب اس سے بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ کی ان باتوں کا سرکاری سطح پر سختی سے جواب نہیں دیا گیا اور چند وزراء نے نقوی صاحب کو یہ طعنے دیے کہ وہ بھی تو اسی سسٹم کا حصہ ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن اچانک چند دن بعد وزیر داخلہ صاحب نے پینترا بدلا اور کہا کہ شہباز شریف کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور انکی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر سسٹم ناکام ہوچکا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف جنہیں شہباز سپیڈ بھی کہا جاتا ہے چودہ چودہ گھنٹے کام بھی کریں تو یہ سسٹم ٹھیک نہیں ہوسکتا تو پھر حکومت چلنے کا کیا فائدہ ہوگا ؟ اگر کسی کمپیوٹر کا سسٹم خراب ہو جائے تو آپ چاہے چودہ گھنٹے اس پر کام کرتے رہیں آپ کا مقصد حل نہیں ہوگا ۔
شاید نقوی صاحب کا یہ مطلب ہوگا کہ سسٹم تو فیل ہو چکا ہے لیکن جس طرح ماضی میں سسٹم فیل ہونے کے باوجود حکمرانوں کا سسٹم کامیابی سے چلتا آیا ہے اسی طرح اب بھی شہباز شریف کا سسٹم کامیابی سے چلے گا انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور باقی رہی عوام تو وہ بیچارے تو ہمیشہ سے ہی فیل شدہ سسٹم میں زندگی گزارنے کے عادی ہیں لہذا ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا ۔

مزید خبریں