لاہور(محب) لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
جسٹس عبہر گل خان نے درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت علیمہ خان کی جانب سے بیرسٹر تیمور اور عرفان کلار ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد فرخ خان پیش ہوئے۔
علیمہ خان کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند
سماعت کے دوران جسٹس عبہر گل خان نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کیا گیا ہے؟
وکیل بیرسٹر تیمور نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا کیس دیگر مقدمات سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی تاریخ کو ڈی آئی سی ہوئی اور اسی تاریخ کو نظر بندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ بظاہر پہلے گرفتاری عمل میں لائی گئی اور اس کے بعد نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے کو دیکھ لے گی اور درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا جا رہا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔











