جمعه,  24 جولائی 2026ء
میں کہاں ہوں؟ کیا یہ بستر مرگ ہے؟
عنوان ہے، زندگی کا خوف

 تحریر: سید شہریار احمد
ایڈو کیٹ ہائی کورٹ

میں کہاں ہوں؟ کیا یہ بستر مرگ ہے؟

میری نظروں کے بالکل سامنے سفید دیوار ہے۔ اپنی آنکھوں کو ہلکی سی دائیں بائیں جنبش دے کے دیکھ سکوں تو وہ بھی سفید دیواریں ہیں،

لڑکے اور لڑکیاں جو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کمرے میں آ جا رہے ہیں وہ بھی سفید لباس میں ملبوس ہیں۔
تو یہ تو میں جان گئی ہوں کہ میں ہسپتال میں ہوں،
تو کیا میں بستر مرگ پر ہوں؟

میں اپنے پاؤں پھیلا نہیں پا رہی اور اگر ہمت کر کے سیدھے کر لوں تو پھر سمیٹ نہیں پاتی، اس لیے نہیں کہ میرے جسم میں درد ہے بلکہ اس لیے کہ بدن میں طاقت نہیں رہی ،
کروٹ لینا چاہتی ہوں تو نہیں لی جاتی ،
میرے بچے یا میری نرس مجھے سہارا دے کر سیدھا بٹھاتے ہیں یا میرا رخ تبدیل کرتے ہیں۔

میری سانس میں رکاوٹ کی وجہ سے آکسیجن کی پائپ لگی ہوئی ہے اور جو کچھ دیر پہلے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی ،اس میں ان نالیوں کی وجہ سے کچھ بہتری آئی ہے۔

جب میرے بچے، پوتے پوتیاں، نواسے یا مہمان ،تیمارداری کے لیے میرا حال پوچھتے ہیں تو پھیپھڑوں میں طاقت نہ ہونے کے سبب بہت نحیف آواز میں جواب دیتی ہوں کہ میں ٹھیک ہوں۔ سب کو یہی بتاتی ہوں کہ اللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں جبکہ سچ یہ نہیں ہے ، حقیقت یہ ہے کہ سانس لینے میں اکثر رکاوٹ رہتی ہے۔

میرے دانت، اپنا ٹریٹمنٹ کروا رہے ہیں، دانتوں کے مسوڑوں میں اور چہرے کی ہڈیوں میں اسی وجہ سے درد رہتی ہے اور پھر ان ہڈیوں کو اپنا علاج کروانا پڑتا ہے۔

شوگر ، بلڈ پریشر اور دانتوں کیلئے دوائیاں کھانا پڑتی ہیں جس کی وجہ سے کھانے کا مزہ جاتا رہا ہے۔
کسی چیز میں مزہ نہیں آتا۔

کھانے کی بات پر نقاہت ہونے لگتی ہے ۔
ان سب تکلیفوں کے علاوہ جو مجھے زیادہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ یہ کہ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے بچوں کو بیماری کے عالم میں تکلیف دے رہے ہوں،
مجھے خیال آتا ہے کہ شاید میں ان کے لیے مشکلات کا سبب تو نہیں بن رہی؟

میرا دل ہر وقت اپنی اولاد کے لیے دعائیں کرتا رہتا ہے ۔ان بچوں کے لیے جنہوں نے گزشتہ کئی سالوں سے میری بیماری کی حالت میں اپنا وقت اور لاکھوں روپیہ صرف کیا ہے اور اپنی ایسی اولاد کے لیے بھی جو مالی طور پر ان حالات میں تھوڑا سا پیچھے رہے ہیں، ان کے لیے میں زیادہ دعا کرتی ہوں کہ اللہ ان کے مالی و معاشی پریشانیاں دور کرے

اور ان سب بچوں نے جو میرے لیے بیماری کی حالت میں خدمت کی ہے اللہ انہیں اس کا بے پناہ اجر دے۔
کسی کسی وقت تو مجھ پہ بہت بے بسی اور رنجیدگی طاری ہو جاتی ہے جب میں اپنے ہی بچوں کا نام بھولنے لگتی ہوں، ان کے نام یاد کرتی ہوں تو یاد نہیں آتے۔
کبھی کسی بچے کا نام کسی اور کے سامنے لے لیتی ہوں تو پھر وہ میری اصلاح کرتے ہیں کہ نہ دادو میں وہ نہیں، میں تو وہ ہوں۔

ایک اور تکلیف کا سبب بننے والی بات یہ ہے کہ جب ڈاکٹر آ کر میرے جسم میں سوئی چبھو کے ٹیسٹوں کے لیے خون حاصل کرتے ہیں

یا پھر مجھے ہسپتال کے کارکنوں کی مدد سے سہارا دے کر لیبارٹری میں ٹیسٹوں کے لیے لی جایا جاتا ہے تب میں بہت پریشان ہو جاتی ہوں۔

آج میں سوچ رہی ہوں اس وقت کے بارے میں جب موجودہ وقت کے بارے میں کبھی نہ سوچتی تھی کہ ایسا بھی وقت آئے گا جب میں حرکت بھی نہ کر سکوں گی۔

جب میں لوگوں کے سہارے کی محتاج ہو جاؤں گی،اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے کی محتاج ۔

میں سوچ رہی ہوں کہ اس وقت تو میں بھاگتی تھی،
گھر کے سارے کام کرتے ہوئے تھکان نہ ہوتی تھی،
خاندان کے لیے کھانا بنانے کے بعد ،کپڑے دھو لیتی تھی، کپڑے دھونے کے بعد،جھاڑو پہونچا بھی کر لیا کرتی تھی۔

ایسا خیال بھی دماغ میں نہیں آتا تھا کہ کبھی ایسی زندگی گزارنا پڑے گی؟

جوانی میں کئی بار ہاسپٹل جانا ہوا اور پھر واپس زندگی کی طرف لوٹ آتی تھی اور اب 82 سال کی عمر میں گھر واپسی کا خیال بھی نہیں آ رہا ۔

اب مجھے ایک اور طرح کا خوف بھی دامن گیر ہے جو کہ اپنی بچپن اور جوانی میں کبھی نہ ہوا تھا اور وہ ڈر ہے روز محشر اپنے اعمال کے حساب کا ۔

میں تو ہمیشہ پر امید رہی اور اپنے خدا پر پکا یقین رہا کہ وہ مجھے جہنم میں نہیں بھیجے گا کیونکہ میں جانتی تھی کہ میں نے کبھی ایسا کام نہیں کیا جو میرے لیے دوزخ کا دروازہ کھول دے،

بلکہ خدا کے حکم کے مطابق پانچ نمازوں کی ہمیشہ پابندی کی ہے،

صبح شام قرآن کی تلاوت کی۔ اپنے تئیں بچوں کو اچھا انسان بنانے کی تگودو میں رہی۔

اب میں کیوں خوف میں مبتلا ہوں کہ جنت میں جاتی ہوں یا نہیں ؟

سوچتی ہوں کس سے بات کروں؟ کس سے پوچھوں؟
اگر کوئی میرے دل کو، میرے دماغ کو یہ یقین دلا دے کہ مجھے میرے اعمال کا ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسا کہ مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا تو میری موت پرسکون ہو جائے۔

اس وقت میں خدا سے بس یہی دعا کروں گی کہ مجھے جنت ملے نہ ملے مگر میری ملاقات وہ میرے ماں باپ سے اور بہن بھائیوں سے کروا دے
تو یہی میرے لیے
جنت سے کم نہ ہوگا۔

مزید خبریں