پھر دو اور نہایت اہم باتیں

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

پھر دو اور نہایت اہم باتیں

آپ اپنی فون بک سے کچھ نمبرز ڈیلیٹ کر دیں ،جتنا جلد ہو سکے انہیں اپنی فون بک سے غائب کر دیں کیونکہ
سچائی تو یہ ہے کہ دنیا میں برے لوگ ہمیشہ سے رہے ہیں، اب بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے اور اچھوں سے زیادہ تعداد میں ہوں گے۔
کوئی آپ کو دھوکہ دینے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا ،کوئی آپ کو پیچھے سے وار کرے گا۔ پیچھے سے وار کرنے والا کوئی غیر ہی نہیں اپنا بھی ہو سکتا ہے۔ لوگ ہمیشہ ہمیں تکلیف دینے کا موقع ڈھونڈتے ہیں، وہ ہمیں تکلیف میں دیکھ کر ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں۔
کیوں کیا کبھی آپ نے ایسا محسوس نہیں کیا ؟کیا آپ نے یہ سچائی نہیں پائی کہ آپ کے آس پاس آپ کے حلقہ یاراں میں ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو آپ کی ترقی ،آپ کی خوشحالی دیکھ نہیں پاتے۔
تو کیوں نہیں آپ ایسے لوگوں کی زندگی سے خود کو دور کر لیتے ؟
اصلی سوال یہ ہے کہ اپنی زندگی ہم ان کی برائی کے بوجھ تلے کیوں جیتے ہیں؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سامنے والا کیسا ہے۔ ہمیں کسی سے کوئی اچھی امید نہیں رکھنی اور کسی کی اصلاح کا بھی نہیں سوچنا کیونکہ ہم جن کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، جن کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں وہ کبھی بھی ایسا نہیں چاہیں گے۔ جو خود کو بدلنا چاہے گا اس کو آپ کے مشوروں کی ضرورت نہ ہوگی۔
تو کیوں ہم اس امید میں اور اس انتظار میں رہیں کہ لوگ ہم سے گھل مل جائیں گے۔
ہمیں اپنا سمجھیں گے۔
ہمارے ساتھ تعلق نبھائیں گے۔ نہیں، ایسا ہرگز نہ ہوگا ۔
کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ سبزی والے کی دکان پر جائیں اور اس سے پیٹرول مانگ لیں یا کبھی ایسا ہوا یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ پیٹرول پمپ پر جا کر اس سے آٹا،چاول اور دال مانگیں؟کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ وہاں یہ چیزیں آپ کو نہیں ملیں گی۔
اسی طرح ہم جن لوگوں سے ہمدردی، پیار، وقت اور مدد کی توقع کرتے ہیں یہ چیزیں ان کے پاس نہیں ہوتیں۔
تو مزید عمر ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ ایسے لوگوں سے رابطہ منقطع کر لیا جائے جیسا کہ میں نے کیا۔
میں نے 25 /30 سال پرانے اپنے دوستوں کے نمبرز اپنے فون سے ڈیلیٹ کر دیے ہیں۔
آپ بھی ایسے لوگوں کو جانتے ہیں کہ وہ آپ کے ہمدرد نہیں اور آپ کے کسی مشکل وقت پہ کبھی کام بھی نہیں آئے۔آپ بھی ان کے نمبرز ڈیلیٹ کر دیں،
ہو سکتا ہے کچھ لوگوں نے یہی سوچ کر آپ کا نمبر بھی پہلے ہی ڈیلیٹ کر دیا ہو۔

دوسری اہم بات یہ کہ دنیا میں جتنے بھی سنت، سادھو! مذہبی علماء اور سماجی دانشور گزرے ہیں یا اب گزر رہے ہیں وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ
اگر تمہیں کوئی دکھ پہنچتا ہے تو سمجھ لینا کہ تم نے دکھ بانٹے ہیں اور اگر زندگی میں تمہیں سکون اور خوشیاں میسر آتی ہیں تو پھر یہ تمہارے اپنے کرموں کا پھل ہے کیونکہ تم نے یقینا خوشیاں ہی دی ہوں گی۔
ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر تمہیں پیار نہ ملے تو سمجھ جاؤ کہ تم نے کبھی پیار نہیں دیا کسی کو بھی۔
کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا قانون ہے کہ جو بوو گے، وہی کاٹو گے اور ہم جو دیتے ہیں وہی واپس لیتے ہیں۔

ہندو دھرم میں کہا جاتا ہے۔
اپنی ہی کرنی کا پھل ہیں، نیکیاں رسوائیاں ،
آپ کا پیچھا کریں گی، آپ کی پرچھائیاں ۔

یہ تو ہو گئیں فہیم اور دانا لوگوں کی باتیں جنہوں نے معاشروں کی تشکیل کی، جنہوں نے انسانیت کو جینے کے آداب سکھائے اور جنہوں نے دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے ہم لوگوں کے لیے کچھ اصول اور ضوابط طے کیے اور جو ہزاروں سالوں سے زبان زد عام ہیں لیکن
مجھ ناچیز کی ناقص رائے اس فلسفے سے ذرا مختلف ہے۔
میں نے بارہا دیکھا ہے کہ جو جتنا اچھا ہے، جو جتنا مددگار ہے، لوگوں کے برے وقت میں کام آنے والا ہے، لوگوں کو پیار بانٹتا ہے، لوگوں کی مشکل میں سب سے پہلے کھڑا ہوتا ہے، اس کو میں نے ہمیشہ ذلیل اور رسوا ہوتے ہی دیکھا ہے۔
لوگ اس کی خدمات کے اعتراف میں شکریہ کہنا تو دور کی بات، اس کے لیے مزید تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں ۔
دنیا میں ایسی بے شمار مثالیں بھری پڑی ہیں جن میں بہت نیک لوگ ،سماجی کارکن !غریبوں، یتیموں! مسکینوں کو پالنے والے دنیا میں بہت دکھ جھیل رہے ہیں۔
اس کے برعکس ایسے نوسر باز، فراڈیے! قبضہ مافیا کے لوگ جو حرام حلال کی تمیز کیے بغیر خزانوں پر سانپ بنے بیٹھے ہیں ان کے گرد رشتہ داروں، بہترین دوستوں، کاروباری لوگوں اورسچی محبت کرنے والی لڑکیوں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے اور یہ دو نمبر لوگ اشرافیہ، حکمران طبقے تک رسائی رکھتے ہیں اور زندگی بھر موج بستی کرتے ہیں اور اپنی نسلوں کی قسمت سنوار جاتے ہیں۔
تو پھر کہاں گیا سادھو، سنت! مذہبی علماؤں کا یہ دعوی کہ اچھائی کرو تو اچھائی ملے گی، برائی کرو گے تو برائی۔
تو پھر صدیوں سے ہمیں اس دھوکے میں رکھا گیا ہے۔

اور تیسری بات یہ کہ کبھی غور کرو تو یہ زندگی کیا ہے، ہم روزانہ کولہو کے بیل کی طرح چکی کی گرد چکر لگا رہے ہیں ۔
صبح اٹھتے ہیں، روز کھانا کھاتے ہیں، آفس گئے ، ،شام کو گھر لوٹے پھر کھانا کھایا اور سو گئے۔
یہ کیسی زندگی ہے؟ یہ بھی کوئی زندگی ہے؟
اس سے بہتر زندگی تو جانور گزارتے ہیں ۔
کبھی غور کر کے دیکھو تو ،جانور ہم سے زیادہ مطمئن ہیں، وہ بھی کھاتے ہیں، بچے پیدا کرتے ہیں، ان کو پالتے ہیں لیکن ان کو ہمارے جیسی ٹینشن نہیں ہے۔
نہ انہوں نے بجلی کا بل دینا ہے، نہ بچوں کو پرائیویٹ سکول بھیجنا ہے، نہ ہی انہوں نے برانڈڈ کپڑے لینے ہیں اور نہ ہی اچھے ہوٹلوں میں جا کے کھانا کھانا ہے۔
تو میں کبھی سوچتا ہوں کہ یہ جانور ہم انسانوں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔
آپ بھی تھوڑی دیر ایسا سوچیے، دیکھیے ،آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے۔
میں نے کہا تھا کہ آپ کو دو اور اچھی باتیں بتاؤں گا۔ ایک تیسری بات اور دماغ میں اگئی ہے تو آپ کو بتا دی۔
دو کی بجائے تین باتیں ہو گئیں تو اس میں ہرج ہی کیا ہے؟
کوئی ایک بات تو آپ کو اچھی لگے گی ان میں سے۔
مجھے آپ سے یہی امید ہے۔

مزید خبریں