اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز )اسلام آباد میں 30 سالہ نوجوان کے قتل میں ایک 19 سالہ لڑکی اور اس کے مبینہ ساتھی کو گرفتار کر لیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق اس واردات کا مرکزی کردار لڑکی ہے جس نے شادی سے انکار پر لڑکے کو قتل کروایا ، مرکزی ملزم سیف اللہ خیبرپختونخوا پولیس میں کانسٹیبل اور ایک ڈی ایس پی کا بیٹا ہے ، کو سوات کے علاقے سیدو شریف سے گرفتار کیا گیا جبکہ 19 سالہ لڑکی کو اسلام آباد سے 24 گھنٹوں کے اندر حراست میں لیا گیا، مقتول فرخ چوہدری کو اتوار کی رات اسلام آباد کے سیکٹر ایف 6 میں واقع رہائش گاہ سے چار سے 5 افراد نے اغواء کیا، بعدازاں اسے صوابی موٹروے مردان منتقل کیا گیا، جہاں مبینہ تشدد کے بعد اسے قتل کر دیا گیا، جس کے بعد لاش مردان کی ایک سڑک پر پھینک دی گئی۔
شادباغ میں موبائل چوری کے شبہ پر نوجوان پر تشدد، ملزمان گرفتار
تحقیقات کے مطابق 19 سالہ لڑکی نے اغواء کاروں کو مقتول کی ساری معلومات فراہم کیں، پولیس کاکہناہے کہ لڑکی ایک ہفتہ قبل مقتول کے گھر بھی گئی تھی اور اس کے اہل خانہ سے ایک فرضی نام کے تحت معلومات بھی حاصل کیں،واردات میں استعمال کی گئی گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلی تھی لیکن گاڑی کا سراغ ایم ٹیگ کے ذریعے لگایا گیا، اغواء کے وقت لڑکی ایک آن لائن بک کروائی گئی ٹیکسی میں موجود تھی اور مبینہ طور پر اغواء کاروں کی گاڑی کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔
ایس پی سٹی کے مطابق اس کیس کی تفتیش کیلئے چار ٹیمیں، اسلام آباد، صوابی ،مردان اور سوات میں کام کر رہی تھیں، مقتول کا پوسٹ مارٹم پمز ہسپتال اسلام آباد میں کیا گیا، ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ موت کی وجہ سر پر لگنے والی شدید چوٹ تھی ، منگل کی شام فرخ چوہدری کی نمازجنازہ اسلام آباد میں ادا کی گئی۔
پولیس کا کہناہے کہ مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے بعد اب دیگر سہولتکاروں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔











