قلم قرطاس اور تلوار ۔
تحریر شیخ اعجاز افضل
امریکہ اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، عسکری اور نظریاتی اختلافات نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس تناؤ کے باوجود ایسے مواقع آئے جب دونوں فریقوں نے تصادم کے بجائے مذاکرات اور کسی حد تک مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے امریکہ اور ایران کو جنگ بندی اور کسی ممکنہ ڈیل پر آمادہ کیا؟
سب سے پہلا اور اہم محرک معاشی دباؤ تھا۔ ایران پر عائد سخت اقتصادی پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ تیل کی برآمدات میں کمی، کرنسی کی قدر میں گراوٹ، اور عوامی بے چینی نے ایرانی قیادت کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ تصادم کے بجائے مذاکرات زیادہ فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ بھی طویل جنگوں کے اخراجات اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ کے مسائل سے دوچار تھا، جس نے اسے بھی کسی حد تک لچک دکھانے پر آمادہ کیا۔
دوسرا اہم عنصر خطے میں عدم استحکام کا بڑھتا ہوا خطرہ تھا۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے، اور امریکہ و ایران کے درمیان کھلی جنگ پورے خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتی تھی۔ اس ممکنہ تباہی نے عالمی طاقتوں اور علاقائی اتحادیوں کو بھی متحرک کیا، جنہوں نے دونوں ممالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ کشیدگی کم کریں۔
تیسرا محرک سفارتی دباؤ اور بین الاقوامی ثالثی تھا۔ یورپی ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل کوشش کرتے رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے۔ یہ سفارتی کوششیں اکثر پسِ پردہ رہتی ہیں، مگر ان کا اثر نمایاں ہوتا ہے، خاص طور پر جب دونوں فریق کسی حد تک مذاکرات کے لیے تیار ہوں۔
چوتھا پہلو داخلی سیاسی عوامل تھے۔ ایران میں عوامی احتجاج اور معاشی مشکلات نے حکومت کو نرم مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کیا، جبکہ امریکہ میں بھی سیاسی قیادت کو عوامی رائے، انتخابات، اور خارجہ پالیسی کے نتائج کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کی قیادت نے ایسے فیصلے کیے جو وقتی طور پر کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکیں۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی یا کسی ڈیل کی کوششیں محض ایک عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی پیچیدہ عوامل کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ معاشی دباؤ، علاقائی سلامتی، سفارتی کوششیں، اور داخلی سیاست یہ سب مل کر وہ ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ عمل نازک اور غیر یقینی ہوتا ہے، مگر عالمی امن کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ جنہوں نے دونوں ممالک پر دباؤ ڈالا کہ وہ کشیدگی کم کریں۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلوں کو بہت حد تک کم کر دیا ۔ اور آخر کار پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی انتھک کوششوں کے بعد ایران نے آج آبنائے ہرمز کھول دیا ۔ لیکن امریکہ کے فوجی بحری جہازوں کی موجودگی نے نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔











