جمعه,  17 اپریل 2026ء
اسرائیلی حملے کے خدشے پر پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ایرانی وفد کو سکیورٹی حصار میں ایران واپس پہنچایا: خبررساں ایجنسی
اسرائیلی حملے کے خدشے پر پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ایرانی وفد کو سکیورٹی حصار میں ایران واپس پہنچایا: خبررساں ایجنسی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ غیر حتمی امن مذاکرات کے بعد پاکستانی فضائیہ  کے لڑاکا طیاروں نے ایرانی مذاکراتی وفد کو سکیورٹی حصار میں  ایران واپس پہنچایا کیونکہ ایرانی حکام کو خدشہ تھا کہ اسرائیل انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ  کے مطابق اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ کے تقریباً 2 درجن جنگی طیارے اور ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) طیارے شامل تھے جنہوں نے اسلام آباد سے واپسی کے دوران ایرانی وفد کو تحفظ فراہم کیا۔

خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ مستقبل میں بھی اگر ایرانی وفد درخواست کرے گا تو اسی نوعیت کی سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے بصورت دیگر پاکستانی فضائیہ اپنی فضائی حدود میں ان کا استقبال کرے گی۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ایرانی وفد کو خدشہ تھا کہ حالات سازگار نہیں رہے اور انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے باعث سکیورٹی اقدامات کیے گئے۔

امریکا کا اسلحہ اور ایٹمی مواد کی فراہمی روکنے کیلئے ایران جانیوالے بحری جہازوں کی تلاشی کا اعلان

ذرائع نے بتایا کہ یہ ایک بڑا آپریشن تھا جس میں طیاروں نے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ وفد کو ایران تک پہنچایا۔

رپورٹ کے مطابق اس مشن میں پاکستانی فضائیہ کے چینی ساختہ جے-10 سی طیارے بھی شامل تھے۔

ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق ایرانی وفد نے سکیورٹی کی باقاعدہ درخواست نہیں کی تاہم  انہوں نے اس امکان کو رد بھی نہیں کیا کہ اسرائیل ان کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے جس کے بعد پاکستان نے سکیورٹی فراہم کرنے پر زور دیا۔

سفارت کار کے مطابق ایرانی وفد کے طیارے نے تہران میں لینڈ نہیں کیا اور یہ واضح نہیں کہ انہیں کس مقام پر اتارا گیا۔

مزید خبریں