اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز): وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلوں کے پابند نہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی لیز بحالی اور قبضے سے متعلق نظر ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کرنے کا حکم دیا ہے اور فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سپریم کورٹ فیصلوں کی آئینی عدالت کیلیے صرف قائل کرنے والی حیثیت ہے۔ وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں سے رہنمائی لے سکتی ہے، اور اگر سپریم کورٹ کی قانونی نظیر قانون و آئین سے ہم آہنگ ہو تو آئینی عدالت اسے اختیار کر سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نظر ثانی درخواست کا دائرہ اختیار انتہائی محدود اور مخصوص ہے۔ یہ کیس پر دوبارہ بحث کا موقع نہیں بلکہ صرف ریکارڈ پرظاہر غلطی یا کوتاہی تک محدود ہے، جس سے انصاف کا قتل عام ہو رہا ہو۔ عدالت ریویو میں دوبارہ سماعت نہیں کرتی بلکہ ریکارڈ پر ظاہر غلطی دیکھتی ہے۔
آئینی عدالت کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ نظر ثانی درخواست میں کسی ایسی غلطی کی نشاندہی نہیں کی گئی جو ریکارڈ پر ظاہر ہو۔ ریویو درخواست میں پہلے سے اٹھائے گئے نکات ہی دوبارہ پیش کیے گئے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فریقین اور وکلا صرف حقیقی طور پر جائز بنیاد پر ریویو درخواستیں دائر کریں۔ فضول یا بدنیتی پر مبنی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے بطور اخراجات عائد کیے جا سکتے ہیں جب کہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کیخلاف تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے۔
آئینی عدالت نے کہا کہ ریویو درخواست دائر کرنے سے پہلے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ یا فریق کو وجوہات پر مبنی سرٹیفکیٹ دینا ہوگا اور سماعت کے لیے 50 ہزار روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانا لازم ہوگا۔ مناسب کیسز میں ریویو درخواست زبانی سماعت کے بغیر سرکولیشن کے ذریعے نمٹائی جا سکتی ہے۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175 ایف ون سی کے تحت ہائیکورٹ کے آرٹیکل 199 کے فیصلے کیخلاف اپیل کیلیے ایف سی سی سے لیو ضروری ہے۔ لیو ٹو اپیل مسترد کرنے کا مطلب لازماً ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق نہیں اور لیو ٹو اپیل پر عدالت کے لیے تفصیلی وجوہات دینا ضروری نہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی کہا کہ غیر تفصیلی حکم یا نان اسپیکنگ آرڈر بذات خود ریویو کا جواز نہیں۔ لیو ٹو اپیل کے مرحلے پر قانونی سوال یا انصاف کے قتل عام کو روکنے کی ضرورت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔











