پیر,  02 نومبر 2026ء
غیر ملکی مداخلت کے الزامات ثابت ہو جائیں تب بھی انتخابی نتائج برقرار رہیں گے: اسرائیلی حکام

تل ابیب(روشن پاکستان نیوز) اسرائیل کے الیکشن کمیشن کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ اگر انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات درست بھی ثابت ہو گئے تب بھی ملک کے عام انتخابات کے نتائج برقرار رہیں گے۔

سینٹرل الیکشن کمیٹی کے سربراہ نوام سہلبرگ  نے اتوار کے روز ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہمارا مؤقف یہ ہے کہ اگر یہ شکوک و شبہات ثابت بھی ہو جائیں، تو بھی اس سے مجموعی طور پر انتخابی عمل کی شفافیت یا الیکشن کے حتمی نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘۔

اس ویڈیو میں ان کے ہمراہ اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت کے سربراہ اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔

ان انتخابات کے حتمی نتائج کی باضابطہ توثیق رواں ہفتے متوقع ہے جس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ نئی حکومت بنانے کے لیے کسی امیدوار کو نامزد کریں گے۔

وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکود پارٹی نے ان انتخابی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام عائد کیا تھا کہ منگل کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی عرب  جماعتوں نے الیکشن چوری کیا ہے اور اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر قطر سے فنڈنگ حاصل کی ہے۔

اتوار کے روز اسرائیلی پولیس نے منگل کو پولنگ شروع ہونے سے قبل گرفتار کیے گئے تین سیاسی کارکنوں میں سے دو کو رہا کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کی منظوری دے دی

پولیس کے مطابق ان کے قبضے سے نقد رقم کے لفافے برآمد ہوئے تھے جو مبینہ طور پر ووٹروں کو رشوت دینے کے لیے تھے۔ ان میں سے ایک کارکن کو غیر واضح شرائط پر رہا کیا گیا ہے جبکہ دوسرے کو گھر پر نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان مشتبہ افراد کا تعلق عربوں کی قیادت والی جماعت ‘رام’ (Ra’am) سے تھا جس نے حالیہ انتخابات میں آٹھ نشستیں حاصل کی ہیں۔

تاہم رام پارٹی کے رہنما منصور عباس نے ان گرفتاریوں کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور اسے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی ایک بھونڈی کوشش قرار دیا ہے۔

مزید خبریں