جمعرات,  22 اکتوبر 2026ء
سپریم کورٹ نے ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال کردیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سپریم کورٹ نے ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے ریکروٹمنٹ رولز 2014 کو بحال کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبونل کا 17 اکتوبر 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے اہم تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سروس ٹریبونل کو انتظامی پالیسی کے امور یا ریکروٹمنٹ رولز کو ختم کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، ٹریبونل کو اپنے دائرہ اختیار کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے تھا، وہ خود کو ایگزیکٹو کے مقام پر فائز نہیں کر سکتا اور نہ ہی قواعد از سرِ نو مرتب کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اہم قانونی نقطہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ ترقی بذاتِ خود کوئی بنیادی یا حاصل شدہ حق نہیں ہے، حکومت کو اپنی انتظامی ضروریات کے مطابق سروس اسٹرکچر اور بھرتی کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کا مکمل اختیار ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جونیئر آڈیٹر کے عہدے سے براہِ راست اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کی ‘ڈائریکٹ پروموشنل جمپ’ (مستقیم چھلانگ) کا کوئی قانونی یا آئینی حق وجود نہیں رکھتا۔

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو خواجہ سرا قیدیوں کی ہارمون تھراپی روکنے سے روک دیا

عدالت عالیہ نے نشاندہی کی کہ متاثرہ ملازم کو یکم جنوری 2021 کو جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر کے عہدے پر ترقی مل چکی تھی۔ ملازم نے 2014 کے قواعد کے تحت خود ہی پروموشن حاصل کی اور بعد ازاں انہی قواعد کو عدالت میں چیلنج بھی کر دیا۔

سروس ٹریبونل نے ابتدائی منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر 2014 کے رولز منسوخ کیے تھے، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بعد میں 2017، 2019 اور 2021 میں انہی رولز میں ترمیم کی منظوری دی تھی، قواعد کے اس تسلسل اور عملی نفاذ سے 2014 کے قواعد کی قانونی حیثیت مکمل طور پر برقرار رہتی ہے۔

سپریم کورٹ نے یاد دہانی کرائی کہ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس ٹریبونل کا دائرہ اختیار صرف ملازمین کی ملازمتی شرائط و ضوابط تک محدود ہے۔ اگر قواعد سے کسی ملازم کے بنیادی یا قانونی حقوق متاثر نہ ہو رہے ہوں تو ٹریبونل کو ایسے معاملات میں بالکل مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

مزید خبریں