عدالت نے بدھ کے روز ایک سطری حکم جاری کیا، تاہم فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔ امریکی سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) کے ایل جی بی ٹی کیو اور ایچ آئی وی پروجیکٹ کی سینئر اسٹاف اٹارنی لی نولن سول نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے مؤکلوں اور وفاقی جیلوں میں قید تمام خواجہ سرا افراد کے لیے اہم فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق طبی طور پر ضروری علاج سے محروم کرنا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے پہلے روز ایک ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت قیدیوں کو جنس کے اظہار یا مطابقت کے لیے طبی طریقۂ علاج، ادویات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
بعد ازاں امریکی بیورو آف پرزنز نے ایسی پالیسی نافذ کی جس کے تحت صنفی شناخت سے متعلق اضطراب کا سامنا کرنے والے قیدیوں کو نفسیاتی مشاورت اور علاج کی اجازت تھی، تاہم ہارمون تھراپی، سرجری اور لباس یا میک اپ جیسی سماجی سہولیات کی اجازت نہیں تھی۔
واشنگٹن کی ایک وفاقی ضلعی عدالت اور اپیل عدالت نے اس پالیسی پر عارضی طور پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ اپیل عدالت نے گزشتہ ماہ قرار دیا تھا کہ انتظامیہ نے صنفی مطابقت کے علاج سے متعلق اپنی سابقہ پالیسی کے تجربات کا مناسب جائزہ نہیں لیا۔
مڈ ٹرم انتخابات سے چند ہفتے پہلے امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی آگئی
ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں اپیل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابقہ علاج اور سہولیات سے جیلوں کی سکیورٹی اور انتظامی امور سے متعلق خدشات پیدا ہوئے، جو ان سہولیات کے محدود فوائد سے زیادہ اہم تھے۔
دوسری جانب تین قیدیوں نے پالیسی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کئی برسوں سے ہارمون تھراپی حاصل کر رہے تھے اور نئی پابندی سے تقریباً ایک ہزار زیرِ حراست افراد کا علاج متاثر ہوسکتا تھا۔ اے سی ایل یو نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ حکام گزشتہ 30 برسوں کے دوران اس علاج کی فراہمی سے متعلق کسی ایک سکیورٹی واقعے کی بھی نشاندہی نہیں کرسکے۔
سپریم کورٹ کے دو قدامت پسند ججوں، جسٹس کلیئرنس تھامس اور جسٹس سیموئل ایلیٹو نے فیصلے سے اختلاف کیا، تاہم انہوں نے اس کی وجوہات بیان نہیں کیں۔ امریکی محکمۂ انصاف نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔











