اسلام آباد (راجہ اسرار): وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے لینڈ اینڈ ری ہیبلیٹیشن ڈائریکٹوریٹ کے افسران اور دیگر افراد کے خلاف سیکٹر آئی 12/4 میں 10 رہائشی پلاٹوں کی مبینہ جعلی الاٹمنٹ کے معاملے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کے مطابق انکوائری نمبر 35/2024 مکمل ہونے کے بعد انکشاف ہوا کہ سی ڈی اے کے بعض افسران نے مبینہ طور پر نجی افراد کے ساتھ ملی بھگت اور مجرمانہ سازش کے تحت اسلام آباد کے سیکٹر آئی 12/4 میں 10 رہائشی پلاٹ غیر قانونی طور پر الاٹ کیے۔
مقدمے کے متن کے مطابق اسلم ولد سمندر کے قانونی ورثا کو 1965 کے اہلیت سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر سرکاری پلاٹ الاٹ کیے جانے تھے، تاہم الزام ہے کہ ملزمان نے 2017 میں ساجد اسلم نامی شخص کے دعوے کو منظور کرتے ہوئے 10 رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا عمل مکمل کیا۔
ایف آئی آر میں سابق ڈائریکٹر لینڈ عرفان اللہ، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لینڈ افنان عالم، سابق ڈائریکٹر صدرہ انور، ایڈمن آفیسر اصغر علی، ڈیلنگ اسسٹنٹس فقیر محمد اور محمد اظہر، سی ڈی اے کونسل لطیف سعیدی اور مبینہ طور پر فائدہ اٹھانے والے ساجد اسلم کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق 11 ستمبر 2017 کو ساجد اسلم ولد محمد اسلم کی جانب سے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے جمع کرائے گئے دعووں کو متعلقہ افسران اور اہلکاروں نے مبینہ طور پر پراسیس کیا، منظوری کے مراحل سے گزارا اور ان کی بنیاد پر 30 بائی 60 فٹ کے 10 رہائشی پلاٹ الاٹ کیے گئے۔
ان پلاٹوں کے نمبر 958، 921، 949، 918، 963، 916، 920، 1088، 908 اور 926 ہیں، جو اسلام آباد کے سیکٹر آئی 12/4 میں واقع ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق یہ الاٹمنٹ اسلم ولد سمندر کے قانونی ورثا کے حق میں ہونا تھی۔
تین سال میں بیرون ممالک جانے کے خواہشمند 74ہزار474 افراد کو آف لوڈ کیا گیا: ایف آئی اے دستاویز
مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 سمیت پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی متعلقہ دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق اُس وقت کے ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے، تحصیلدار یاسر شاہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریونیو اور دیگر متعلقہ افراد کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش کے نتائج اور قانونی کارروائی کی روشنی میں ہوگا۔










