اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف دائر درخواست پر نوٹس جاری کردیا۔ درخواست سابق رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دائر کی تھی، جس میں سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے شیر افضل مروت سے استفسار کیا کہ ان کی درخواست میں کون سا آئینی سوال اٹھایا گیا ہے۔ عدالت میں پیش ہو کر شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں اس وقت سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔
شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ سہیل آفریدی کو غیر آئینی طریقے سے وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ ان کے مطابق علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹانے کا طریقہ آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 کے منافی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا تھا اور نہ ہی گورنر نے ان کا استعفیٰ منظور کیا تھا۔ شیر افضل مروت کے مطابق سزا یافتہ بانی کے کہنے پر گنڈاپور سے استعفیٰ لیا گیا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں علیمہ اور عظمیٰ کے کتنے مقدمات درج ہیں؟ پولیس رپورٹ سامنے آ گئی
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نااہل شخص کا حکومتی معاملات میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی سزا یافتہ یا نااہل شخص کسی پراکسی کے ذریعے حکومت نہیں چلا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے درخواست پر نوٹس جاری کردیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ ہوگی۔











