اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) جیو نیوز کے ایک پروگرام میں مبینہ مذہبی طور پر قابلِ اعتراض مواد نشر کیے جانے کے معاملے پر پیمرا کونسل آف کمپلینٹس نے کیس مزید غور کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا ہے۔
درخواست گزار وکیل چوہدری ناصر عباس منہاس ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے دیگر وکلا کے ہمراہ جیو نیوز، اس کے سی ای او، پروگرام کے پروڈیوسر، ڈائریکٹر، میزبان، کیمرہ مین، تکنیکی ٹیم اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 26 جون 2026 کو جیو نیوز کے پروگرام “سفرِ عشق” میں مبینہ طور پر ایسی ویڈیوز، کارٹونز اور دیگر مواد نشر کیا گیا جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ درخواست گزار کے مطابق پروگرام میں حضور اکرم ﷺ اور اہلِ بیت اطہار سے متعلق مبینہ طور پر نامناسب اور توہین آمیز انداز اختیار کیا گیا۔
درخواست میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پروگرام کا ریکارڈ، ویڈیوز اور دیگر الیکٹرانک شواہد محفوظ کیے جائیں، معاملے کی مکمل انکوائری کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پیمرا قوانین کی خلاف ورزی ،جیو نیوز کو نوٹس، لائسنس 15 دن کیلئے معطل
درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ مبینہ مواد کے باعث عوام میں تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے، اس لیے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری قانونی اقدامات کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق پیمرا کونسل آف کمپلینٹس نے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ارسال کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے موصول ہونے تک جیو ٹی وی کی نشریات بحال نہ کی جائیں۔
تاہم اس معاملے پر جیو نیوز یا جیو میڈیا گروپ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر میں شامل کیا جائے گا۔











