تنخواہوں اور پینشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز، قومی اسمبلی میں 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش

اسلام آباد(سعد عباسی) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

اپنی تقریر میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کا شکر گزار ہوں، حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بینان مرصوص میں کامیابی ایک روشن باب ہے،گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے، بہت سارے ممالک ہمارے لڑاکا طیارے اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، ہمارے پاس مقدس اور بھاری ذمہ داری ہے، سعودی عرب کےساتھ بھائی چارےکا رشتہ دفاعی معاہدے سےمضبوط ہوا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں سیلاب سے ہونے والےنقصانات اور امریکا ایران جنگ کے باوجود ہماری معاشی شرح نمو 3.7 تک پہنچ چکی ہے۔

اس مالی سال میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، خدمات شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنےآئی، ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہےجوکہ نیاسنگ میل ہے جبکہ  فی کس آمدنی1751 ڈالرسےبڑھ کر1901 ڈالرہوگئی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی، زرمبادلہ ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالرتھے جو بڑھ کر17 ارب ڈالرسے زائد ہوچکے ہیں، زرمبادلہ ذخائر تین مہینوں کی درآمدات کےلیے کافی ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق ترسیلات زر پچھلے مالی سال 38 ارب ڈالر تھیں، اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زرکا حجم 38ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ  افراط زر کی اوسط شرح8.2 فیصد متوقع ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2 فیصد ہوگا۔

ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ15 ہزار 264  ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال سے17.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ8 ہزار848 ارب روپے ہو گا۔

وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے

وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار336 ارب روپے ہو گا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے ہوگی۔ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار  771 ارب روپے ہے، جس میں سے 8 ہزار 54 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔

وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار  ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے،  وفاقی حکومت کے جاریہ اخراجات کا تخمینہ17 ہزار 495 ارب روپے ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے، اس قومی فرض کے لیے 3 ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں جبکہ پنشن کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 169 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق ملٹری پینشن پر 822 ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بجلی اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر ایک ہزار 91 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ جاریہ اخراجات سے آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے،  گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

اگلے مالی سال بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، بی آئی ایس پی کے لیے یہ رقم پچھلے سال کےمقابلے میں17فیصد زیادہ ہے۔

قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3ہزار 675 ارب روپے مختص

محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں وفاق کا ایک ہزارارب روپے، صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2 ہزار 224 ارب روپے کا ہے۔

وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کےبنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لیے 365ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کے لیے 100ارب روپے، سکھر حیدر آباد موٹروے پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ  ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن پر کام آئندہ سال شروع ہوگا جس کے لیے 25ارب مختص کیے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کی ترسیلی صلاحیت بڑھانے کے لیے اسٹیٹکام اور بیٹری اسٹوریج جیسے جدید نظاموں میں سرمایہ کاری کے لیے بالترتیب 10.2 ارب اور3 ارب روپے شامل ہیں۔صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ صاف اور قابل تجدید توانائی کے 0 منصوبوں کے لیے واپڈا کو 50.2 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں8 ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے 13.1 ارب روپے کی خصوصی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ  واپڈا اور نیشنل گرڈ کمپنی اپنے انفرادی وسائل سے 158ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔

محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پاکستان کو پانی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے اسٹوریج کی کم ہوتی ہوئی صلاحیت، گزشتہ سال دریاوں میں سیلاب نے ہماری معیشت کو 822 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، بجٹ میں 43 آبی منصوبوں کے لیے103ارب 10کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14ارب، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ  داسو پن بجلی منصوبے کے لیے 15 ارب مختص کیے گئے ہیں جبکہ کراچی کے بلک واٹر سپلائی کے فور منصوبے کے لیے 10ارب روپے مختص کیے  گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 2035 تک ہماری تقریباً نصف ملکی آبادی شہروں میں مقیم ہوگی، اربن سینٹرز ہماری معیشت کا 55 فیصد حصہ ہیں، بجٹ میں دیرپا شہری ترقی اور ہاوسنگ شعبے کے لیے 54 ارب60کروڑ روپے مختص کیے ہیں، اس رقم سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ50ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جبکہ 10بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کیے جائیں گے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی رفتار بڑھانے کے لیے بجٹ میں 6 ارب 60کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں صنعتی ڈیزائنگ کے آٹومیشن مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ عوامی صحت کی دیکھ بھال ہماری اہم قومی ذمہ داری ہے،  ترقیاتی بجٹ میں صحت کے منصوبوں کے لیے 25ارب10کروڑ روپے رکھے ہیں جس میں کینسر کے علاج کی سہولیات میں وسعت بھی شامل ہے۔

بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی  46ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ  آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختوانخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر144.9 ارب روپے روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے لیے 45 ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے44 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم کے خصوصی پیکج کے طور پر آزاد جموں و کشمیر کے لیے 5 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جبکہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

آمدنی کے 4 سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز

وزیر خزانہ کے مطابق  بجٹ میں آمدنی کے 4 سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز ہے۔

22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ 32 سے 41 لاکھ تک آمدنی پرٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔

41 سے56 لاکھ روپےسالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ 56 سے70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 32 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دارطبقے پرعائد 9 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 15سے50 کروڑروپےتک آمدنی کی 6 سلیبس پرعائد سپر ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے، 50کروڑسےزیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 سےکم کرکے8فیصد کرنےکی تجویز ہے تاہم بینکوں، تیل وگیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزرز پر سرچارج برقرار ہے۔

بجٹ میں جائیدادمنتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے، فائلرز کےلیےجائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سےکم کرکے1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ فائلرز کےلیے جائیداد کی فروخت پرودہولڈنگ ٹیکس 5.5 سےکم کرکے2.75 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایکسپورٹ پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم سےکم ٹیکس کی مدد میں مجموعی طورپر2 فیصدٹیکس ہے جسے کم کرکے 1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جوکہ کم سےکم ٹیکس کی مد میں ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت مزید3 سال تک جاری رکھنےکی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈکےبیرون ملک استعمال پرودہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد کرنے، غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے۔ یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنےکی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا۔

بجٹ میں سینیٹری پیڈز اور خواتین کی صحت سے متعلقہ اشیا پرٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے جبکہ مانع حمل اشیاء پرعائدٹیکس ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ چھوٹےدکانداروں کےلیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانےکی تجویز ہے، اس سسٹم میں وہ دکاندار آسکتےہیں جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے، چھوٹے دکارندار اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے، اس ٹیکس میں دکاندار اپنا ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کراسکیں گے، چھوٹےدکاندار کوگوشوارے جمع کراتے وقت کم ازکم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوگا، ان کا روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا اور انہیں خریداری پر ودہولڈنگ کی ذمےداری نہیں ہوگی اور پی او ایس مشین رکھنےسے استثنیٰ ہوگا۔

بجٹ میں امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے  جبکہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پربھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد عائد کرنے کی تجویز ہے، 3 ہزارسی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز  ہے جبکہ 2کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیرغور ہے، الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا، درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلزٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ سفید سپرٹ اور منرل تارپین آئل پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کررہے ہیں، یہ اشیاء پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کے دائرہ سے باہر آتی ہیں، ان اشیاء کو تیل میں ملاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ملاوٹ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں اور مشینری خراب ہوتی ہیں۔

فنانس بل کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل آمدن پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگے گا اور متعلقہ شخص کے اکاونٹ میں وصولی کے وقت ٹیکس کٹوتی ہو گی۔

فنانس بل کے تحت پلیٹ فارمز سے اکاؤنٹ میں رقم وصولی کے وقت 5 فیصد ٹیکس کٹوتی ہو گی، فعال ٹیکس دہندگان میں شامل رہائشی شخص کی آمدن سے 5 فیصد کٹوتی ہو گی جبکہ غیر رہائشی شخص کے اکاؤنٹ سے بھی 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کٹے گا۔

فنانس بل کے مطابق سوشل میڈیا انفلونسر سے مراد وہ شخص یا ادارہ جس کو اس پلیٹ فارم سےآمد ہو۔

مزید خبریں