اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)انجمن تاجران پاکستان کے صدر اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ ملک کو ڈنڈے کے زور پر چلایا جا رہا ہے،ملک میں 150 سے زائد صنعتیں بند پڑی ہیں،ملک آگے کیسے چل سکتا ہے؟تاجروں کو چور کہا جاتا ہے، حکمران بتائیں کیاہر سال پانچ ہزار ارب تاجر کھا جاتے ہیں،پوائنٹ آف سیل پر ایف بی آر تاجروں پر جوظلم کر رہا ہے وہ تاریخ میں نہیں دیکھا،اے سی صاحبان میں تاجروں کو جرمانے کرنے میں دوڑ لگی ہوئی ہے، اے سی سٹی اور اے سی بھارہ کہو کو تاجروں کی تذلیل کرنے پر فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے،،14 مئی تک حکومت نے مطالبات نہ مانے تو پورے ملک کے تاجر روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کرینگے، اجمل بلوچ نےان خیالات کا اظہار جڑواں شہروں کے تاجر رہنماؤں قمر عباسی، ظاہر عباس،الطاف شاہ، عبدالرحمان، ملک نعیم،شہزاد عماد،نعیم اعوان،اختر عباسی و دیگر کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،اجمل بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ اپنی 27 سالہ تاجرانہ زندگی میں ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا کہ ملک کو ڈنڈے پر چلایا جا رہا ہو،تاجر شدید مشکلات کا شکار ہیں،آئی ایم ایف کہتا ہے کہ پاکستان میں گیارہ کروڑ عوام میں خریداری کی سکت نہیں رہی،ایف بی آر پوائنٹ آف سیل کے نام پر تاجروںکو بلیک میل اور ہراساں کیا جا رہا ہے، تاجروں کو پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کئے جا رہے ہیں، کرایہ دار تاجر کیسے گزارا کرتا ہے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے تاجروں کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے اور یہ آٹھ بجے دوکانیں بند کروانے پہنچ جاتے ہیں،ہمیں دنیا کی مثالیں دی جاتی ہیں کوئی انہیں یہ بھی بتائے کہ دنیا میں اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے،یہاں تو آپ تاجر کو ایک ڈسپرین کی گولی نہیں دیتے جبکہ دنیا میں تاجر کا سارا علاج مفت ہوتا ہے ادھر تو تاجروں پہ ڈنڈا لے کے کھڑے ہیں، انتظامی افسران میں جرمانے کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ، اگر کوئی سسٹم بنانا ہے تو اس کے لیے مل بیٹھنا ہوگا کوئی طریقہ کار نکالنا ہوگا، ملک کے لوگوں کو ذلیل کیا جا رہا ہے اسی طرح جب ہم سب سے مہنگی بجلی خریدتے ہیں تو اپ پیسے یہی تو پیسے ہیں یہی تو پیسے ملک میں بجلی چلاتے ہیںآئی پی پیز کے ساتھ آپ نے جو ناجائز معاہدے کئے ہیں یہ پیسے ان کو ادا کرتے ہیں ، آپ نے اسلام آباد میں غریبوں کے گھر اجاڑ دئیے، جن لوگوں کے گھر گرائے گئے وہ کدھر جائیں گے، حکومت کو انکا متبادل دینا چاہیئے تھا، اللہ قیامت کے دن اسکا آپ سے حساب لے گا، ، 70 سالوں سے ان سی ڈی اے کے تمام افسران کو جن کی موجودگی میں یہ بنے اگر ناجائز بنے تو ان کو سب کو جیل میں ہونا چاہیے ان سب کو سزا ہونی چاہیے،آج تک کسی افسر کو سزا کیوں نہیں ملی، سی ڈی اے اہلکارپہلے غیر قانونی کام کروانے کے پیسے کرانے کے پیسے لیتے ہیں پھر نوٹس بھیج کے اس کو صحیح کرنے کے پیسے لیتے ہیں،اجمل بلوچ نے کہا کہ اے سی سٹی اور اے سی بھارہ کہو کو تاجروں کی تذلیل کرنے پر فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے، اگر حکومت نےتاجروں کے مطالبات نہ مانے تو وہ ملک بھر میں 14 مئی سے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کرینگے۔











