بغداد(روشن پاکستان نیوز) سعودی عرب پر ڈرون حملے کے واقعے کے بعد عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا۔
سعودی عرب نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں عراقی ڈرون حملوں کا نشانہ بننے کے بعد مشرقی- مغربی آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائپ لائن پر عراق سے ڈرون حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ عراقی وزیراعظم کی درخواست پرفی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سعودی عرب پر ڈرون حملے کے واقعے کے بعد عراقی وزیراعظم نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا۔
حوثیوں نے ایک بار پھر 3 سعودی شہروں پر ڈرون اور میزائل داغ دیے
عراقی وزیرِاعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق ایک عراقی فوجی کمانڈر کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا، جب تحقیقات میں تصدیق ہوئی کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ ڈرون حملے عراق سے کیے گئے تھے۔
بیان کے مطابق برطرف کیے گئے کمانڈر جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔
عراقی وزیرِاعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
خبرایجنسی کے مطابق عراق نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد احتیاطاً شلمچہ بارڈر کراسنگ بند کر دی۔
دوسری جانب عراقی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ عراقی وزیراعظم نے حملوں کے حالات اور اس کے پسِ پردہ فریقین کے بارے میں فوری تحقیقات کرنے اور حملے میں ملوث ثابت ہونے والے ہر شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔











