دنیا بھر میں آج نوجوانوں کے عالمی دن کے موقعہ پر نوجوانوں کے خوابوں، صلاحیتوں، امکانات اور مستقبل کی بات ہو رہی ہے۔ کہیں نوجوان نئی ٹیکنالوجی تخلیق کر رہے ہیں، کہیں تحقیق کی نئی سرحدیں عبور کر رہے ہیں، کہیں اپنے معاشروں کی قیادت سنبھال رہے ہیں اور کہیں ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے اپنے علم، ہنر اور توانائی کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ مگر اسی دنیا میں ایک خطہ ایسا بھی ہے جہاں نوجوانی کے خواب خوف کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں، جہاں کتاب اور قلم کی جگہ گرفتاری، تفتیش اور قید کا خوف لے لیتا ہے، اور جہاں ایک پوری نسل اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے سے پہلے اپنی سلامتی کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہے۔ وہ خطہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر ہے۔
بھارتی مقبوضہ
کشمیر کا نوجوان بھی دنیا کے دوسرے نوجوانوں کی طرح خواب دیکھتا ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، اپنے خاندان کا سہارا بننا چاہتا ہے، اپنے معاشرے کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اپنے ہنر کو دنیا کے سامنے لانا چاہتا ہے اور اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد برسوں سے گرفتاریوں، چھاپوں، پوچھ گچھ، نگرانی، سیاسی دباؤ اور خوف کے ایسے ماحول سے گزر رہی ہے جس نے زندگی کے معمولی خوابوں تک کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
یہ محض اعداد و شمار کی کہانی نہیں، انسانوں کی کہانی ہے۔ یہ اس ماں کی کہانی ہے جو رات گئے دروازے پر ہونے والی ہر دستک سے گھبرا جاتی ہے۔ یہ اس باپ کی کہانی ہے جو اپنے جوان بیٹے کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے عمر کی ایک طویل مسافت طے کر لیتا ہے۔ یہ اس بہن کی کہانی ہے جو اپنے بھائی کی تصویر کو دیکھتے ہوئے اس دن کا انتظار کرتی ہے جب وہ دوبارہ گھر کی دہلیز پر قدم رکھے گا۔ اور یہ اس نوجوان کی کہانی ہے جس کی زندگی کے وہ قیمتی سال جو تعلیم، روزگار، محبت، تخلیق اور مستقبل کی تعمیر میں گزرنے چاہئیں، قید، مقدمات، خوف اور بے یقینی کی نذر ہو جاتے ہیں۔
کسی نوجوان کو قید کرنا صرف اس کے جسم کو چار دیواری میں محدود کرنا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ اس کے خواب بھی محدود ہوتے ہیں، اس کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، اس کے روزگار کے امکانات ختم ہوتے ہیں، اس کے خاندان کا سکون چھن جاتا ہے اور اس کے مستقبل پر ایک ایسا سایہ پڑ جاتا ہے جسے وقت بھی آسانی سے نہیں ہٹا پاتا۔ جب ایک نوجوان تشدد کا نشانہ بنتا ہے تو اس کے جسم پر پڑنے والے زخم صرف جسمانی زخم نہیں رہتے؛ وہ اس کے خاندان کی یادداشت، اس کے معاشرے کے احساس اور اس کی آنے والی نسلوں کے شعور میں بھی ثبت ہو جاتے ہیں۔
بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہزاروں کشمیری نوجوانوں کے بارے میں تشدد اور بدسلوکی کے ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا انسانی ضمیر کے لیے ممکن نہیں ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے تناظر میں من مانی گرفتاریوں و حراست، تشدد، بدسلوکی، اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی پر پابندیوں سمیت متعدد انسانی حقوق کے مسائل پر تشویش ظاہر کی ہے اور آزادانہ، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کے حقوق کو محض سیاسی بحث کا حصہ نہیں بلکہ انسانی وقار کے بنیادی سوال کے طور پر دیکھا جائے۔
سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی نوجوان کا سیاسی اختلاف یا اپنے مستقبل کے بارے میں رائے رکھنا اس کی آزادی چھیننے کا جواز بن سکتا ہے؟ ایک مہذب معاشرے میں اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، سیاسی مطالبے کا جواب سیاسی عمل سے دیا جاتا ہے اور شہری کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے اس کے ساتھ مکالمہ کیا جاتا ہے۔ جب اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا جائے، خوف کو حکمرانی کا ذریعہ بنا دیا جائے اور نوجوانوں کو سیاسی دباؤ کے ذریعے خاموش رکھنے کی کوشش کی جائے تو معاملہ محض قانون و انتظام کا نہیں رہتا بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور انسانی وقار کا سوال بن جاتا ہے۔
بھارتی مقبوضہ جموں و
کشمیر کے نوجوان کو دنیا سے رحم کی بھیک نہیں چاہیے۔ اسے اپنے بنیادی حقوق، اپنی عزت، اپنی آزادی اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق چاہیے۔ اسے وہی مواقع چاہئیں جو دنیا کے دوسرے نوجوانوں کو حاصل ہیں؛ تعلیم کے مواقع، روزگار کے مواقع، اظہارِ رائے کی آزادی، سیاسی شرکت کا حق اور ایک ایسا ماحول جہاں وہ خوف کے بغیر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے۔ اسے کتاب چاہیے، ہتھکڑی نہیں؛ یونیورسٹی کا دروازہ چاہیے، جیل کی کوٹھڑی نہیں؛ تحقیق اور تخلیق کے سوال چاہئیں، گرفتاری کا خوف نہیں۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے نوجوانوں کو دنیا کی تبدیلی کی قوت قرار دیا ہے۔ لیکن بھارتی مقبوضہ کشمیر کا نوجوان آج بھی اپنے بنیادی مستقبل کے سوال سے دوچار ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس پر عالمی ضمیر کو غور کرنا ہوگا۔ اگر نوجوان دنیا کا مستقبل ہیں تو بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نوجوان کا مستقبل کہاں ہے؟ اگر نوجوانوں کی آواز کو دنیا بھر میں ترقی، امن اور تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے تو پھر بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نوجوان کی آواز کو خاموشی، پابندی اور خوف کے درمیان کیوں تلاش کرنا پڑتا ہے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کے خلاف سیاسی انتقام اور دباؤ کا خاتمہ کیا جائے، غیر قانونی اور من مانی گرفتاریوں کا سلسلہ روکا جائے، قید نوجوانوں اور سیاسی رہنماؤں کے معاملات کا شفاف اور منصفانہ جائزہ لیا جائے، تشدد اور بدسلوکی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو ان کے بنیادی انسانی، سیاسی اور شہری حقوق فراہم کیے جائیں۔ مسئلہ کشمیر کو محض ایک سکیورٹی مسئلہ سمجھ کر اس کے انسانی اور سیاسی پہلو کو نظرانداز کرنا مسئلے کو مزید پیچیدہ کرنے کے مترادف ہے۔ پائیدار امن طاقت کے زور پر خاموشی پیدا کرنے سے نہیں آتا؛ امن انصاف، انسانی وقار، سیاسی مکالمے اور عوامی خواہشات کے احترام سے پیدا ہوتا ہے۔
مشتاق احمد بٹ نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی صورتحال کو محض ایک علاقائی تنازع کے تناظر میں نہ دیکھے بلکہ اسے ایک انسانی مسئلے کے طور پر بھی سمجھے۔ ایک ایسی نسل جس کے خواب خوف کے نیچے دب رہے ہوں، جس کے نوجوان جیلوں میں قید ہوں اور جس کے خاندان اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہوں، اسے نظرانداز کرنا عالمی انسانی حقوق کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔
کشمیر کی وادی نے کئی دہائیوں سے بہت کچھ دیکھا ہے۔ اس نے اسکول جاتے ہوئے نوجوان دیکھے ہیں، یونیورسٹی کے خواب دیکھتے ہوئے نوجوان دیکھے ہیں، اپنے خاندانوں کے لیے فکر مند نوجوان دیکھے ہیں، جیلوں کی طرف لے جائے جاتے نوجوان دیکھے ہیں اور تشدد کے زخم اپنے جسموں پر اٹھائے واپس آنے والے نوجوان بھی دیکھے ہیں۔ لیکن تاریخ کا ایک سبق ہمیشہ زندہ رہتا ہے: کسی قوم کے جسم کو پابند کیا جا سکتا ہے، اس کی سوچ کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا؛ کسی آواز کو کچھ دیر کے لیے دبایا جا سکتا ہے، مگر انصاف کی خواہش کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
سلاخیں جسم کو روک سکتی ہیں، خوابوں کو نہیں۔ خوف قدموں کو کچھ دیر روک سکتا ہے، مستقبل کی خواہش کو نہیں۔ ایک اندھیری کوٹھڑی رات کو طویل کر سکتی ہے، مگر صبح کے امکان کو ختم نہیں کر سکتی۔
آج نوجوانوں کے عالمی دن پر کشمیر کا سوال صرف کشمیر کا سوال نہیں۔ یہ دنیا کے ضمیر کے سامنے رکھا ہوا ایک انسانی سوال ہے: جب دنیا کے نوجوان اپنے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہوں تو کیا بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نوجوان کو بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے؟*
یہ سوال جواب مانگتا ہے۔ اور اس کا جواب خاموشی نہیں ہو سکتا۔











