اسلام آباد: (روشن پاکستان نیوز) ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نعمان صدیقی نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 2025 کے دوران انٹیلی جنس اطلاعات اور خطرات کے تجزیے پر مبنی نظام کے تحت 39 ہزار 786 مسافروں کو سفر سے روکا، جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نعمان صدیقی نے کہا کہ مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے عمل پر اکثر عوامی سطح پر تنقید کی جاتی ہے، تاہم یہ فیصلے من مانی بنیادوں پر نہیں کیے جاتے بلکہ امیگریشن خدشات، مشتبہ سفری رجحانات، دستاویزات کی تصدیق اور متعلقہ ملک کی سفری شرائط کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آف لوڈنگ کا بنیادی مقصد انسانی جانوں کا تحفظ اور انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں شہریوں کے استحصال کی روک تھام ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی ہجرت کے راستوں سے جڑے متعدد المناک واقعات کے بعد یہ کریک ڈاؤن شروع کیا گیا، جن میں گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً 460 پاکستانی متاثر ہوئے جبکہ کم از کم 377 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ایڈیشنل ڈی جی امیگریشن نے بتایا کہ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 میں غیر قانونی ہجرت کی کوشش کے دوران 109 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2023 کے یونان کشتی حادثے کے بعد اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہوا، جس کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر قائم اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے سخت اقدامات کی سفارش کی، جن میں سے بیشتر پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔
نعمان صدیقی کے مطابق دسمبر 2024 سے اب تک ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف 2 ہزار 421 مقدمات درج کیے، جس کے نتیجے میں 3 ہزار 130 ایجنٹ گرفتار کیے گئے۔ اس دوران 961.71 ملین روپے مالیت کی جائیداد ضبط، 87.7 ملین روپے نقد برآمد اور 239.63 ملین روپے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے رسک اینالسز یونٹ نے مشتبہ اور حقیقی مسافروں میں فرق کرنے کے لیے پانچ رسک پروفائلز تیار کیے ہیں، جنہیں وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بھیک مانگنے سے متعلق ملک بدری کے واقعات میں 75 فیصد اور جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ملک بدری میں 31 فیصد کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق 2025 میں مختلف ممالک سے پاکستانی شہریوں کی ڈی پورٹیشنز میں 2024 کے مقابلے میں 16 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ فرونٹیکس کے اعداد و شمار کے تحت 2025-26 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران پاکستانی شہریوں کی جانب سے یورپ میں غیر قانونی سرحدی داخلوں میں 64 فیصد کمی دیکھی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں ایف آئی اے کی جانب سے آف لوڈ کیے گئے 39 ہزار 786 مسافروں کے علاوہ 34 ہزار 688 افراد دیگر وجوہات کی بنا پر سفر نہ کر سکے، جن میں ایئرلائن سے متعلق مسائل اور کسٹمز، انسدادِ منشیات فورس، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس اور پولیس کو مطلوب افراد شامل تھے۔
مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایف آئی اے امیگریشن نے زونل دفاتر میں پری ڈیپارچر فیسلیٹیشن ڈیسک قائم کیے ہیں، جہاں شہری ٹکٹ خریدنے سے قبل اپنی سفری دستاویزات کی تصدیق کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو مسافر خود کو غلط فہمی یا نامکمل معلومات کی بنیاد پر آف لوڈ سمجھتے ہیں، وہ متعلقہ بارڈر چیک پوسٹ کے انچارج سے فوری نظرثانی کی درخواست کر سکتے ہیں، اور اہل قرار دیے جانے پر انہیں سفر کی اجازت دے دی جاتی ہے۔
ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: انسانی سمگلنگ میں ملوث 4 ملزمان گرفتار
نعمان صدیقی نے بتایا کہ شکایات اور رہنمائی کے لیے 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن عملہ اکثر عوامی دباؤ اور میڈیا کی نگرانی کے ماحول میں فوری فیصلے کرنے پر مجبور ہوتا ہے، تاہم تمام اقدامات کا مقصد غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے سدباب کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔











