اسلام آباد میں مبینہ لینڈ مافیا سرگرمیاں: تنویر کھوکر پر سنگین الزامات، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اسلام آباد میں زمینوں کے معاملات ایک بار پھر شدید توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں مختلف ذرائع نے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک سے متعلق سنگین نوعیت کے دعوے سامنے لانے کا اشارہ دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تنویر کھوکر پر یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر زمینوں کے تنازعات میں اثر و رسوخ، دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اور مختلف جائیدادوں کے معاملات میں مداخلت جیسے الزامات کی زد میں رہے ہیں۔

سب سے زیادہ حساس معاملہ چوہدری وارث علی کی قیمتی زمین سے متعلق بتایا جا رہا ہے، جہاں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں مختلف طریقوں سے دباؤ میں لا کر زمین سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اس حوالے سے متاثرہ فریق نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ذرائع مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ سی ڈی اے کے زیرِ انتظام بعض زمینوں، نالوں اور دیگر سرکاری اراضی کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اور مبینہ طور پر غیر قانونی ہاؤسنگ سرگرمیوں کا ایک سلسلہ بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

مزید یہ کہ ترقیاتی منصوبوں، پلاٹس کی فروخت، اور سہولیات کی فراہمی کے طریقہ کار پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات بھی زیرِ بحث ہیں۔

معاملے نے شہری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر اس معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کریں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

مزید خبریں