اتوار,  26 اپریل 2026ء
ورکرز ویلفیئر فنڈ کا فیصلہ واپس لیا جائے، مزدوروں کے بچوں کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں: شاہد وحید

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آل پاکستان ٹریڈ یونین کانگرس کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت شاہد وحید نے کی۔ اجلاس میں چوہدری وقار، شفیق انجم اعوان اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔ شرکاء نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد وحید نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ 1971 کے آرڈیننس کے تحت قائم کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ اس ادارے کے تحت ہاؤسنگ اسکیم، ڈیتھ گرانٹ، جہیز گرانٹ اور ایجوکیشن گرانٹ سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ فیصلے کے مطابق تعلیمی وظائف کے لیے میرٹ اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ اب صرف وہی طلبہ مستفید ہو سکیں گے جو میٹرک میں کم از کم 60 فیصد اور ایف ایس سی میں 80 فیصد نمبر حاصل کریں، خصوصاً ایم بی بی ایس اور انجینئرنگ جیسے شعبوں میں داخلے کے لیے۔ انہوں نے اس فیصلے کو غریب مزدوروں کے بچوں کے ساتھ ناانصافی اور کھلا ظلم قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

آل پاکستان ٹریڈ یونین کانگرس کے جنرل سیکرٹری راجہ کرامت حسین نے کہا کہ ایک مزدور جو ماہانہ 30 سے 40 ہزار روپے کماتا ہے، اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں پڑھا سکے جہاں سے وہ اتنے زیادہ نمبر حاصل کر سکیں۔ اس فیصلے سے مزدوروں کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع مزید محدود ہو جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، وہاں ورکرز ویلفیئر فنڈ کا یہ اقدام افسوسناک اور مزدور دشمن پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور محنت کشوں کے بچوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ مقررین نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں ایسے فیصلے مزدور طبقے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

مزید خبریں