اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وزارتِ اقتصادی امور نے جولائی تا اپریل غیر ملکی فنڈنگ اور قرضوں کی رپورٹ جاری کر دی۔
وزارتِ اقتصادی امور نے رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں (جولائی تا اپریل) کے دوران ملنے والی غیر ملکی فنڈنگ اور قرضوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق حکومت نے اس عرصے میں مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران 6 ارب ڈالر کا بیرونی قرض لیا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ رواں مالی سال جولائی تا اپریل گزشتہ سال کی نسبت 5 ارب ڈالر یعنی 83 فیصد زائد قرضہ لیا گیا ہے۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کم کردی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف اپریل 2026 کے مہینے میں پاکستان کو ساڑھے 4 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ اسی مہینے کے دوران متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 3 ارب ڈالر کی رقم واپس بھی کی گئی ہے۔
وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا اپریل کے دوران 12 کروڑ ڈالر کی گرانٹس بھی موصول ہوئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں مجموعی بیرونی مالی معاونت 57 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔
رواں مالی سال موصول ہونے والی رقم میں سے نان پروجیکٹ فنڈنگ 8 ارب 31 کروڑ ڈالر اور پروجیکٹ فنڈنگ 2 ارب 75 کروڑ 66 لاکھ ڈالر رہی۔ اپریل کے مہینے میں ملنے والی گرانٹس کا حجم 2 کروڑ 18 لاکھ ڈالر رہا۔
مختلف ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والی فنڈنگ کی تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کو 1 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل خریداری کے لیے آئل فیسلیٹی فراہم کی۔
اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 48 کروڑ ڈالر کا قرض دیا۔ایشیائی ترقیاتی بینک سے 1 ارب 92 کروڑ 40 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔عالمی بینک (ورلڈ بینک) گروپ سے 1 ارب 66 کروڑ 39 لاکھ ڈالر کی فنڈنگ حاصل ہوئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 19 ارب 39 کروڑ ڈالر کے ان فلوز (آمدن) کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس تخمینے میں سعودی عرب اور چین سے 9 ارب ڈالر کے سیف ڈیپازٹس کا رول اوور بھی شامل ہے۔
جس کے تحت سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر کے سیف ڈیپازٹس کو رول اوور کرایا جانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس رول اوور کیے جا چکے ہیں۔











