گوجرانوالہ (دلشادعلی)محلہ رسول پورہ کے رہائشی ایلڈرعاشر نور کے لاپتہ ہونے پر مسیحی برادری سراپا احتجاج۔
چرچ کے ایلڈر عاشر نور ڈیرھ ماہ قبل لاپتہ ہوئے تھے۔مظاہرین پولیس ایلڈر عاشر نور کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ درج کرنے میں بھی ٹال مٹول کر رہی ہے۔
مظاہرین پولیسں ایلڈر عاشر نور کے اغوا کا مقدمہ درج کرکے اور انہیں فوری بازیاب کروائے۔
مظاہرین اوالد کے اغوا بارے مقدمہ کے اندراج کا معاملہ۔ شہری نے اندراج مقدمہ کا حکم دینے کے لئے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پٹیشن دائر کر دی۔ ایڈیشنل سیشن جج سہیل انجم نے ایس پی کمپلینٹ سیل سی رپورٹ طلب کر لی۔ تفصیل کے مطابق دھلے کے علاقہ محلہ رسول پورہ کے رہائشی شازب شاہد نے سی پی او۔ ایس پی کمپلینٹ سیل۔ ڈی ایس پی کوتوالی۔ ایس ایچ او تھانہ گرجاکھ اور ایس ایچ او تھانہ دھلے کو فریق بناتے ہوئے والد کے اغوا کا مقدمہ درج کروانے کا حکم دینے بارے پٹیشن ایڈیشنل سیشن جج سہیل انجم کی عدالت میں دائر کی جسمیں موقف اختیار کیا گیا کہ اسکا والد شاہد 30 جنوری کو فیکٹری جانے کے لئے گھر سے گیا لیکن واپس نہ آیا جس کی تلاش میں ناکامی پر ریسکیو 15 پر کالز بھی کیں اندراج مقدمہ کی درخواست ایس ایچ او گرجاکھ کو دی لیکن اس نے یہ کہہ کر واپس کر دی کہ اس بارے درخواست ایس ایچ او تھانہ دھلے کو دیں۔
ایس ایچ او تھانہ دھلے نے درخواست کی وصولی دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اعلی افسران سے مشاورت کے بعد مقدمہ درج کرے گا۔ 6 فروری کو سی پی او کو دی گئی درخواست ڈی ایس پی کوتوالی کو مارک کی گئی جہاں پر بھی کوئی دادرسی نہیں ہوئی اور اسے گھنٹوں دفتر کے باہر بٹھا کر ذلیل کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار نے پٹیشن میں اپنے والد کے اغوا کا مقدمہ درج کروانے کا حکم دینے کی استدعا کی ہے۔











