لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانوی وزیرِ دفاع ویس سٹریٹنگ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو 2030 تک کسی بھی ممکنہ بیرونی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہونا ہوگا۔ ان کے مطابق ملک کو روایتی فوجی کارروائیوں کے ساتھ سائبر حملوں، تخریب کاری، اہم قومی تنصیبات پر حملوں اور بیرونی ریاستوں کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی جیسے خطرات کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی لندن کا 27 ستمبر کو پاکستان ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کا اعلان
ویس سٹریٹنگ کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز اور توانائی کی پائپ لائنوں کی نگرانی سے متعلق اطلاعات نے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ حکام کے مطابق نیٹو اور روس کے درمیان ممکنہ تصادم کی صورت میں ان تنصیبات کو نشانہ بنا کر مواصلاتی نظام اور توانائی کی فراہمی متاثر کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے ’’بی ریڈی‘‘ (Be Ready) کے نام سے عوامی آگاہی مہم شروع کی ہے، جس کے تحت شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی حالات کے لیے کم از کم تین دن کی خوراک، پینے کے پانی اور دیگر ضروری اشیاء کا ذخیرہ رکھیں۔ وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ مہم کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا نہیں بلکہ انہیں ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیار کرنا ہے۔











