لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں امریکی فضائیہ کے زیر استعمال رائل ایئر فورس بیس کے قریب دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے شبے میں پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ واقعے کے بعد قریبی علاقے میں تقریباً 85 گھروں کو احتیاطی طور پر خالی کرا لیا گیا۔
برطانوی پولیس کے مطابق اتوار کی علی الصبح تقریباً 12 بج کر 45 منٹ پر تین مشتبہ گاڑیوں کی اطلاع موصول ہوئی جو گلوچسٹر شائر میں واقع رائل ایئر فورس فیئر فورڈ کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ اطلاع ملنے پر مسلح پولیس اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ویلفورڈ کے علاقے سے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق پانچوں افراد کو ابتدا میں دھماکا خیز مواد سے متعلق قانون کے تحت جرائم کے شبے میں حراست میں لیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے شبے میں بھی گرفتار کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی پولیس نے تحقیقات کی ذمہ داری سنبھال لی ہے اور پانچوں افراد تاحال زیر حراست ہیں۔
واقعے کے بعد ویلفورڈ میں تقریباً 85 گھروں کو احتیاطی طور پر خالی کرایا گیا، جبکہ مشتبہ گاڑیوں کے گرد 400 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کردیا گیا۔ برطانوی فوج کی خصوصی بم ڈسپوزل ٹیم نے بھی موقع پر پہنچ کر گاڑیوں کا معائنہ شروع کیا۔
برطانیہ: غزہ میں مستقل جنگ بندی کے مطالبے کے لیے احتجاج، فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی
گلوچسٹر شائر پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل رچرڈ اوکون نے کہا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے پہلے سے موجود منصوبوں کے تحت کارروائی کی۔ انہوں نے متاثرہ رہائشیوں کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جلد از جلد اپنے گھروں میں واپس بھیجنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور گرفتار کیے گئے پانچوں افراد پولیس کی تحویل میں ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مشتبہ افراد کا مبینہ مقصد کیا تھا یا آیا ان کا ہدف رائل ایئر فورس فیئر فورڈ ہی تھا۔ پولیس نے بھی گرفتاریوں اور فضائی اڈے کے درمیان کسی حتمی تعلق کی تصدیق نہیں کی۔
رائل ایئر فورس فیئر فورڈ برطانوی سرزمین پر واقع ایک اہم فضائی اڈہ ہے جسے امریکی فضائیہ بھی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ عرصے میں ایران سے متعلق امریکی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اس اڈے کی اہمیت سامنے آئی ہے، تاہم برطانوی حکام نے موجودہ گرفتاریوں کو ایران یا کسی مخصوص تنازع سے جوڑنے کی تصدیق نہیں کی۔
پولیس کے مطابق علاقے میں ہنگامی اور سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کچھ وقت تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔











