اتوار,  27  ستمبر 2026ء
پولش خاتون سے پولیس کا مبینہ ناروا سلوک، بچوں کے سامنے طاقت کے استعمال پر تنقید

لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں مرسی سائیڈ پولیس کے ایک اہلکار کی جانب سے پولش خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر سخت رویہ اختیار کرنے اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس پر پولیس کے طریقۂ کار اور خصوصاً بچوں کی موجودگی میں طاقت کے استعمال کے حوالے سے شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار ایک خاتون کو اس کے کم عمر بیٹی سے دور رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ خاتون اپنے بیٹی کے قریب جانے کی کوشش کرتی ہے۔ اسی دوران ایک خاتون پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود دکھائی دیتی ہے، تاہم ایک مرد اہلکار خاتون کو پیچھے دھکیلتا اور اسے قابو کرنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔

ویڈیو کے ایک حصے میں خاتون کی بچی روتے ہوئے اپنی والدہ کو چھوڑنے کی فریاد کرتی سنائی دیتی ہے، جس نے سوشل میڈیا صارفین کے ردعمل کو مزید شدید کر دیا۔ صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی خاتون کو حراست میں لینا ضروری ہو تو کیا بچوں کے سامنے طاقت کے استعمال کے بجائے صورتحال کو زیادہ حساس اور پیشہ ورانہ انداز میں نہیں سنبھالا جا سکتا تھا۔

 

یہ واقعہ 27 جولائی کو لیورپول کے علاقے نیتھرٹن میں Hereford Drive پر پیش آیا تھا۔ مرسی سائیڈ پولیس کے مطابق اہلکار ایک مبینہ چوری کی اطلاع کے بعد موقع پر پہنچا اور ایک کم عمر لڑکے سے تحقیقات کے سلسلے میں بات کرنا چاہتا تھا۔ پولیس نے بعد میں کہا کہ لڑکا کسی جرم کا ملزم نہیں تھا اور سی سی ٹی وی کی جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ کوئی چوری ہوئی ہی نہیں تھی۔

برطانیہ: غزہ میں مستقل جنگ بندی کے مطالبے کے لیے احتجاج، فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی

پولیس کے مطابق خاتون کو امن عامہ میں خلل ڈالنے کے خدشے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ وائرل ویڈیو کے حوالے سے مختلف سوشل میڈیا دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم ویڈیو کا مختصر حصہ واقعے کے تمام حالات کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، اس لیے اس واقعے سے متعلق تمام دعوؤں کو حتمی حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے پولیس کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو خاص طور پر خواتین اور بچوں سے متعلق حساس معاملات میں کشیدگی کم کرنے، مؤثر گفتگو اور مناسب طریقۂ کار اختیار کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ بچوں کے سامنے کسی خاتون کو جسمانی طور پر دھکیلنے یا زبردستی قابو کرنے کے مناظر انتہائی پریشان کن ہوتے ہیں اور ایسے حالات میں پولیس کو طاقت کے استعمال سے قبل تمام ممکنہ پُرامن طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے پولیس سے واقعے کی مکمل وضاحت اور اہلکار کے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کچھ صارفین نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ویڈیو کا مکمل پس منظر سامنے آنا ضروری ہے۔ یوں معاملے میں دونوں پہلوؤں کو دیکھنا اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

واقعے نے ایک وسیع تر سوال بھی اٹھایا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے کس حد تک خصوصی تربیت دی جاتی ہے جہاں خواتین، کم عمر بچے اور والدین جذباتی دباؤ میں ہوں۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ پولیس ادارے اپنے اہلکاروں کو خواتین کے ساتھ احترام، بچوں کی نفسیاتی کیفیت اور بچوں کے سامنے طاقت کے استعمال سے گریز کے حوالے سے مزید مؤثر تربیت فراہم کریں تاکہ قانون کا نفاذ کرتے ہوئے انسانی حساسیت بھی برقرار رہے۔

مزید خبریں