واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکا کی جانب سے ایران پر مزید سخت پابندیوں کے متوقع اعلان سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ڈالر سے زائد کم ہوگئیں، سرمایہ کاروں نے گزشتہ ہفتے قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے بعد منافع کمانے کو ترجیح دی۔
واضح رہے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 22 سینٹ کمی کے بعد 93.17 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو 1.29 فیصد کمی ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی ایک ڈالر 20 سینٹ کم ہوکر 85.86 ڈالر فی بیرل پر آگئی، جس میں 1.38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تیل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ ہوا تھا اور دونوں میں 5 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اس آبی گزرگاہ سے تیل کی ترسیل محدود ہونے سے عالمی توانائی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے کموڈیٹیز تجزیہ کار ویوک دھار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ امریکا کی جانب سے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی پالیسی کس حد تک کامیاب ہو گی ، تاہم اگر اقدامات مؤثر ثابت ہوئے تو ایران کی جانب سے مزید سخت ردعمل توانائی کی عالمی منڈی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی پابندیوں کے منصوبے کی مذمت کی ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
ادھر ایران نے عراق کی درخواستوں کے بعد متعدد عراقی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے خطے میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال میں کچھ بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔











